بدھ 25 ذوالحجہ 1442ﻫ - 4 اگست 2021

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ویڈیولنک کے ذریعے وزیراعظم کی زیر صدارت منعقد ہونے والے نیشنل کوآرڈنیشن کمیٹی کے اجلاس میں شرکت

اجلاس میں ملک بھر میں کورونا کی تازہ ترین صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے صوبے میں کورونا کی تازہ ترین صورتحال اور اس کے تدارک کیلئے صوبائی حکومت کے اقدامات سے فورم کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پشاور کے علاقے دوران پور میں قائم قرنطینہ مرکز میں مقیم تمام 152 افراد کو اپنے گھروں کو بھیج دیا گیا ہے،درا زندہ میں قائم قرنطینہ مرکز مکمل طور پر خالی ہو گیا ہے جبکہ گومل میڈیکل کالج میں قائم قرنطینہ سے بھی لوگوں کی اپنے گھروں کو واپسی جاری ہے ۔ وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ طور خم بارڈر کھلنے کے بعد اب تک 15 ہزار افغان باشندوں کو افغانستان بھیج دیا گیا ہے ۔ صوبے میں ضروری صنعتوں کو مشروط طور پر کھولنے کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے اجلاس کو بتایا کہ اس وقت وضع کردہ طریقہ کار پر عمل درآمد کی شرط پر سیمنٹ کی صنعت کو کھول دیا گیا ہے جبکہ تمباکو ، ماچس اور سٹیل کی صنعتوں کو بھی کھولا جارہا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت چھوٹی صنعتوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دینے پر کام کر رہی ہے اور اس مقصد کیلئے ان صنعتوں کے نمائندوں کا ایک اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے ، جس میں اس حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ متعلقہ وفاقی وزراءکے علاوہ عسکری اور سول اداروں کے اعلیٰ حکام اور چاروں صوبوںسمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی ۔

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے