اتوار 27 رمضان 1442ﻫ - 9 مئی 2021

پانیوں میں گھلتی زمین

پانیوں میں گھلتی زمین

رحمان نشاط صاحب کے افسانوں پر کچھ کہنے کی جرات کرنا ہم جیسے نئے لکھنے والوں کے لیے مشکل مرحلہ ہے، وہ لکھنے کا اعلیٰ معیار، سوچ کی پختگی، اور کرداروں کی تصویر کشی یہ سب قارئین کو اپنی ذات سے نکل کر سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں، یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ کردار حقیقتاً ہمارے ارد گرد ہیں یا ہم ہی میں کہیں موجود ہیں، ہر افسانے کے اختتام پر کتنی ہی دیر اُس کی سحر انگیزی سے نکلنے میں لگی، ہر ہر افسانہ پڑھنے والے کو جیسے کوئی درس دیتا آگے بڑھ رہا ہو جیسے کچھ حاصل ہو رہا ہو یا کسی مقصد کا تعین مل رہا ہو، یہاں کسی ایک یا چند تحریروں کا نام لے کر باقی تحریروں کی چمک کو ماند کرنے کے برابر ہو سکتا ہے، بس اتنا کہنا چاہوں گی کہ رحمان نشاط جیسے سینئر اور مشاق افسانہ نگار شاید بہت کم ہونگے جنہیں پڑھ کر معاشرہ اپنی اصلاحی بنیادوں کو ازسرِ نو درست کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، افسانے میں اتنے گہرے اور وسیع تجربات و مشاہدات دکھائی دیتے ہیں کہ ان سے مستفید نہ ہونا جیسے خود کو کسی آگاہی سے لا حاصل رکھنا ہے، مجھے بے حد خوشی ہے اور بے انتہا رحمان نشاط صاحب کی شکر گزار بھی ہوں کہ یہ قیمتی خزانے جیسی کتاب مجھے دی جسے پڑھ کر میری سوچ کو کئ زاویے ملے

طالبِ دعا
سارہ محبوب

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے