پیر 13 صفر 1443ﻫ - 20 ستمبر 2021

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے کورونا وائرس پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہویے کہا کہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں آج کورونا وائرس ازخودنوٹس کیس کی سماعت ہوئی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کورونا کے خلاف حکومتی اقدامات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ سمجھ نہیں آ رہی کس قسم کی ٹیم کورونا پر کام کر رہی ہے، اعلی حکومتی عہدیداران پر سنجیدہ الزامات ہیں، ظفر مرزا کس حد تک شفاف ہیں کچھ نہیں کہ سکتے، معاونین خصوصی کی پوری فوج ہے جن کے پاس وزراءکے اختیارات ہیں۔ حکومتی کابینہ پچاس رکنی ہوگئی، اس کی کیا وجہ ہے؟ کئی کابینہ ارکان پر جرائم میں ملوث ہونے کے مبینہ الزامات ہیں، عدالت کی آبزرویشن سے نقصان ہوگا، ریمارکس دینے میں بہت احتیاط برت رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو حکومتی ٹیم نے صرف اعدادو شمار بتائے، بریفننگ میں حکومتی ٹیم سے پانچ سوال پوچھے تھے، حکومت کی ٹیم کسی ایک سوال کا بھی جواب نہیں دے سکی، کوئی ملک کورونا سے لڑنے کیلئے پیشگی تیار نہیں تھا ، قانون سازی کے حوالے سے حکومت کا کیا ارادہ ہے؟ کیا ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے پارلیمان قانون سازی کرے گا؟ کئی ممالک ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے قانون سازی کر چکے۔ کیا ملک بند کرنے سے پہلے اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ، حکومتی مشیران اور وزرا مملکت پر اتنی رقم کیوں خرچ کی جا رہی ہے ۔ مشیران اور معاونین کابینہ پر حاوی ہوتے نظر آ رہے ہیں ۔یہ کیا ہو رہا ہے کابینہ کے فوکل پرسن بھی رکھے گئے مشیران بھی ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ وزیراعظم کی کابینہ غیر موثر ہوچکی ہے ۔ معذرت کے ساتھ لیکن وزیراعظم نے خود کو الگ تھلگ رکھا ہوا ہے ۔کیا پارلیمنٹیرینز پارلیمنٹ میں بیٹھنے سے خوفزدہ ہیں ؟ وفاقی و صوبائی حکومتوں نے اپنے اپنے راستے اختیار کر رکھے ہیں ، ہر سیاستدان اپنا علیحدہ بیان دے رہا ہے ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت سیاسی لوگوں کے بیانات پر نہ جائے وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی صلاحیت کے مطابق تدابیر اختیار کر رہی ہیں ۔ جسٹس قاضی امین نے استفسار کیا کہ سماجی فاصلہ رکھنے کے حکومت کیا عمل کروا رہی ہے؟ جمعہ کے اجتماع پر اسلام آباد میں جو ہوا کیا کسی کو نظر آیا؟ اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ سماجی فاصلے کیلئے عوام کو خود ذمہ داری لینا ہوگی، پولیس یا فوج 22 کروڑ عوام کو فاصلے پر کیسے زبردستی کروا سکتی ہے۔ لوگوں کو گھروں پر بند کر دیا گیا ہے حکومت ان تک پہنچے، عام بندے کو پولیس پکڑ کر جوتے مار رہی ہے۔ حکومت لوگوں کو سپورٹ کرے تو وہ بات مانیں گے، لوگ بھوک سے تلملا رہے ہیں ہم انارکی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کرونا سے ہمارے سیاسی نظام کو بھی خطرہ ہے۔ صدر مملکت ان حالات میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کیوں نہیں بلاتے ۔ سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ یہ ایشو عوام کی آزادی اور صحت کاہے، ہسپتالوں میں ڈاکٹر کو غذا بھی غیر معیاری فراہم کی جا رہی ہے وڈیو دیکھی ڈاکڑز کھانے کی بجاے عام ادمی سے حفاظتی کٹس مانگ رہے ہیں ، پاکستان میں اتنے بڑے مینوفیکچررز موجود ہیں کیا وہ حفاظتی کٹس نہیں بنا سکتے ؟ڈاکٹرز اور طبی عملے کو حفاظتی کٹس کی فراہمی ترجیح ہونی چاہئے، جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ ملک میں کرونا کی ٹیسٹ کی استعداد کار بڑھانے کی ضرورت ہے، سماجی فاصلے کے لیے لوگوں کو آگاہی کون دے گا. 

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے