پیر 20 صفر 1443ﻫ - 27 ستمبر 2021

تمام مسائل اور وباؤں سے لڑنے کے لئے کراچی کو چارٹر سٹی کا آئینی درجہ دیا جائے، الطاف شکور

کراچی، پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ کراچی اور لاہور میں کورونا وائرس کے مقابلے کے لئے ہونے والی بد انتظامی نے ثابت کر دیا ہے کہ کراچی، لاہور اور ایک کروڑ سے زائد آبادی رکھنے والے ملک کے تمام بڑے شہروں کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق چارٹر سٹی کا آئینی درجہ دینے کی ضرورت اور اہمیت دوچند ہو گئی ہے۔وفاق اور صوبے کی جنگ نے کراچی کا حال ابتر کر دیا ہے۔وفاق اور صوبہ سندھ کے درمیان انا کی جنگ کا خمیازہ کراچی کے بے گناہ اور مظلوم عوام بھگت رہے ہیں۔ڈھائی سے تین کروڑ کی آبادی رکھنے والا ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی کھنڈر بنتا جا رہا ہے۔بجلی و گیس کی قلت، پانی کی تقسیم کا ناقص نظام،ٹرانسپورٹ کی بدترین بدحالی، سیوریج کا ناکارہ نظام، تعلیم کی ابتر صورتحال،اسپتالوں کی تباہ حالی، کھیل کے میدانوں اور پارکوں پر قبضے، ناجائز تجاوزات کے بعد کورونا وباء کے نتیجے میں سامنے آنے والی بد انتظامیوں، ناقص منصوبہ بندی اور غریب عوام تک راشن اور امدادی رقومات کی بڑے پیمانے پر خرد برد نے ثابت کر دیا ہے کہ اب کراچی، لاہور اور بڑے شہروں کو چارٹر سٹی کا آئینی حق دیئے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے کراچی کے نام پر بچوں کے ہاتھ میں کھلونا آگیا ہے جسے فٹبال کی طرح ادھر اُدھر لڑھکایا جا رہا ہے اور کراچی کے مسائل سے پہلو تہی برتی جارہی ہے۔کورونا وائرس کی وبا کے بعد عالمی اسٹرکچر میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے، دنیا بدل رہی ہے، اب بڑے شہروں کواپنے مسائل شہری سطح پر حل کرنے کے لئے بڑے اختیارات اور بڑے بجٹ دیئے جائیں گے۔پاکستان میں اس تبدیلی کی ابتدا کراچی کو اس کا اپنا گورننگ سسٹم دے کر کی جائے۔کراچی کے دیرینہ مسائل پانی، صحت،تعلیم، سڑکیں،ٹرانسپورٹ، علاج، روزگار کو حل کرنے کے لئے قانون سازی کا حق دیا جائے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ کراچی کی بربادی کے ذمہ دار پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور تحریک انصاف پر مبنی تینوں بڑی جماعتیں ہیں۔پاکستان کے معاشی حب سے کوئی مخلص نہیں ہے۔ کراچی،ملک کی تینوں مقتدر پارٹیوں کے درمیان فٹبال بنا ہوا ہے، اس شہر کی بنیاد پر سیاست سبھی چمکا رہے ہیں لیکن اس کو اس کا حق دینے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے۔کراچی سے بڑی تعداد میں کامیابی حاصل کرنے والی پی ٹی آئی کو وفاق میں اقتدار ملنے کے بعد بھی کراچی کے حالات تبدیل نہیں کئے جا سکے۔18ویں ترمیم کا سب سے زیادہ نقصان کراچی کو ہوا ہے۔ صرف صوبوں کو ہی با اختیار بنانا کافی نہیں بلدیاتی اداروں کو بھی عالمی اصولوں اور قوانین کے مطابق مکمل بااختیار بنایا جانا ضروری ہے۔کراچی کی موجودہ آبادی عالمی قوانین اور اصولوں کے مطابق اسے ایک مکمل صوبہ بننے کا حقدار بناتی ہے،اگر اسے آئینی طور پر چارٹر سٹی کا درجہ دے کر فوری طور پر بلدیاتی الیکشن کرا دیئے جائیں تو کراچی کے شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق بھی مل جائیں گے اور شہر کے مسائل حل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ پی پی پی کی حکومت نے صوبائی خود مختاری کی آڑ میں کرپشن کا بازار گرم کیا ہو اہے جس کو ختم کرنے کا وقت آچکا ہے۔ سندھ حکومت نے بلدیہ عظمی کراچی سے بیشتر اختیارات چھین کر شہری حکومتی نظام کو مفلوج کر دیا ہے جس کا خمیازہ کراچی کے شہری بھگت رہے ہیں۔ کراچی کے شہریوں نے تین دہائی تک ایم کیو ایم کو مینڈیٹ دیا مگر ایم کیو ایم نے متعدد مرتبہ وفاق اور صوبے میں اکثریتی جماعت کو اپنے ووٹوں کے ذریعے اقتدار کے سنگھاسن پر تو بٹھا دیا مگر اہم ترین اتحادی ہونے کے باوجود قانون سازی کے ذریعے کراچی کے حقوق کا تحفظ نہیں کیا جس کا نتیجہ کراچی شہر وسیم اختر جیسے بے اختیار میئر کی صورت میں بھگت  رہا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے