جمعرات 3 رمضان 1442ﻫ - 15 اپریل 2021

8 ارب کی بندربانٹ کا الزام، سندھ حکومت نے سپریم کورٹ میں وفاقی حکومت پر الزام عائد کر دیا

صوبہ سندھ نے راشن کے ذریعے منظور نظر افراد کو 8 ارب روپے کی بندر بانٹ کا الزام مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو اپنے جواب میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت احساس پروگرام کے پردے میں غلط بیانی کر رہی ہے۔

سندھ حکومت نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ حکومت نے راشن کی خرید اور فراہمی کے لیے اب تک صرف دو اقساط ریلیز کی ہیں جن میں 26 مارچ کو ایک قسط 580 ملین کی جاری کی گئی جبکہ دوسری قسط 500 ملین کی 6 اپریل کو جاری کی گئی۔

سندھ حکومت نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ 8 ارب کا الزام حکومت سندھ کی کورونا وبا کے انسداد کے لیے اقدامات کی حوصلہ شکنی کے لیے لگایا گیا۔

کورونا وبا کے معاملات میں فوری قانون سازی کی ضرورت ہے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کا بین الصوبائی مشروط سفری پابندی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا

رپورٹ کے مطابق اربوں روپے کی بات دراصل سندھ حکومت کی طرف سے نہیں بلکہ احساس کفالت پروگرام کے تحت جاری کیے گئے رپورٹ کے اعداد و شمار ہیں۔

رپورٹ میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کل صوبہ سندھ میں کورونا وبا کے مریضوں کے لیے صرف 144 وینٹی لیٹرز ہیں۔

سندھ حکومت نے کورنا وبا سے متعلق ازخود کیس میں رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی ہے جسکے مطابق 383 ورکنگ وینٹی لیٹرز ہیں جبکہ 144 ونٹی لیٹرز کورونا مریضوں کے لیے مختص کردیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صوبے میں کورونا کے تشویشناک مریض 21 ہے جبکہ 16 ہزار 920 لوگوں کا کورونا ٹیسٹ لیا گیا۔

کراچی کی 11 یونین کونسلز کو کورونا مریضوں کی تعداد 86 سے بڑھ کر 234 ہونے پر سیل کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 11 یونین کونسلز کی آبادی 6 لاکھ 74 ہزار سے زیادہ ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 11 یونیز کونسل میں 1210 کورونا ٹیسٹ میں سے194 مثبت آئے۔ مذکورہ یونین کونسل میں ضروریات زندگی کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہاں 6673 راشن بیگ تقسیم کیے جبکہ پورے صوبہ سندھ میں وضع کردہ طریقہ کار کے تحت دو لاکھ پچاسی ہزار راشن بیگ تقسیم کیےگئے۔

رپورٹ کے مطابق صوبہ بھر میں 1056 آئسولیشن سنٹرز قائم کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب پنجاب حکومت نے پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی جس میں کہا گیا ہے کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں روزمرہ استعمال کی چیزوں کی دکانیں جزوی طور پر کھول دی گئی ہیں، اسپتال، میڈیکل اسٹورز سمیت مختلف اداروں کو بھی جزوی کھولا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت کورونا سے تحفظ کیلیے عوام میں سماجی فاصلے کو یقینی بنا رہی ہے، ماسک، سینیٹائزرز سمیت دیگر حفاظتی طبی سامان ملک میں تیار کیا جارہا ہے، 236 ملین لاگت کا طبی سامان تیار ہوچکا جبکہ 1038 ملین کا سامان تیار کیا جارہا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بیت المال کمیٹیوں کے ذریعے 480 ملین روپے کا فنڈ تقسیم کیا جائے گا، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف سمیت طبی عملے کو اضافی الاؤنسز دیئے جا رہے ہیں، لوکل گورنمنٹس کے سینٹری ورکرز کو حفاظتی سامان مہیا کرنے سے متعلق ہدایات دے دی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کورونا کے خلاف لڑنے والے پنجاب حکومت کے گریڈ ایک سے 16 ملازمین کے لیے چالیس لاکھ کا شہدا پیکج رکھا گیا ہے، گریڈ 16 اور اس سے اوپر کے ملازمین کے لیے پچاس لاکھ کا شہدا پیکج رکھا گیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے