منگل 6 شوال 1442ﻫ - 18 مئی 2021

کِشتِ جاں

ثریا حیا صاحبہ کی کتاب ‘کِشتِ جاں’ پڑھ کر احساس ہوا کہ ان کی شاعری اور غزلیں ہم جیسے نئے پڑھنے والوں کے لئے بیش بہا خزانہ ہیں، جس میں حقیقی و مجازی سے لے کر معاشرے کے حالات اور نوجوان نسل کو جگائے رکھنے کے احساسات ملتے ہیں، شاعری میں اردو زبان بہت سادہ تو نہیں لیکن کلاسیکی انداز کی زبان سیکھنے والوں کے لیے یہ ایک بہترین اصلاحی اور تربیتی کتاب ضرور ہے، ثریا حیا کی شاعری کو پڑھتے ہوئے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ماضی میں ہمارے شہروں اور ملک پر جو عذاب اور تکلیف دہ حالات رہے، جو حادثے اور سانحے رونما ہوئے اور ان کے جو اثرات انہوں نے محسوس کیے وہی ان کی شاعری میں جذب بھی ہوتے گئے، جیسے مندرجہ زیل شعر کچھ اسی طرح کی منظر کشی کرتے ہیں

ہرایک قدم پر نئ افتاد پڑی ہے
اے ربِ ذوالجلال قیامت کی گھڑی ہے
کیوں آج رواں آنکھ سے اشکوں کی لڑی ہے
یہ جنگ تو ہر دور میں انساں نے لڑی ہے

ثریا حیا صاحبہ کی نظمیں بہت خوبصورت ہیں، جو ہر زمانے میں تازگی کے ساتھ پڑھی جائیں گی، ہم سب کبھی نہ کبھی ان سب حالات سے زندگی میں گزرتے ہیں جس کا عکس ثریا حیا کی شاعری اور نظموں میں دکھائ دیتا ہے
میری خوش قسمتی ہے کہ آرٹس کونسل میں ان سے ملاقات ہوئی اور میں ان کی نرم طبیعت سے بہت متاثر بھی ہوئ، اور انہی ملاقاتوں کے دوران ثریا حیا نے مجھے اپنی کتاب تحفتاً عنایت کی، وہ میرے لیے بہت قابلِ احترام ہیں اور اس کتاب کو پڑھ کر مجھے ان سے مذید قربت کا احساس بڑھ گیا ہے

طالبِ دعا
سارہ محبوب

یہ بھی دیکھیں

پاکستان کوسٹ گارڈزکی اسمگلنگ کے خلاف مختلف کاروائیاں۔ترجمان کوسٹ گارڈز۔ 

پاکستان کوسٹ گارڈزکی اسمگلنگ کے خلاف مختلف کاروائیاں۔ ترجمان کوسٹ گارڈز۔ گوادر شہر کے قریب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے