منگل 24 ذوالحجہ 1442ﻫ - 3 اگست 2021

کورونا وبا پر ایک کلام

کمرے میں تیس روز سے دیوانہ بند ہے
تم رو رہے ہو شہر کو ، ویرانہ بند ہے

مکّے میں ہے طوافِ حرم بھی رُکا ہوا
اور میکدے میں گردشِ پیمانہ بند ہے

اک شمع جل رہی ہے اکیلی مزار پر
پروانگی حرام ہے پروانہ بند ہے

مشرک بھی دل شکستہ مسلماں بھی دلفگار
مسجد کی تعزیت میں صنم خانہ بند ہے

ممنوع ہے مکالمہ ساحل کی ریت سے
اپنے بدن کو دھوپ میں نہلانا بند ہے

رندوں کو روندنے کا مزہ بھی نہیں رہا
واعظ کو رنج یہ ہے کہ میخانہ بند ہے

ماتم یہ ہے کہ جرم ہے ماتم کی بھیڑ بھی
روتے ہیں سب اکیلے عزا خانہ بند ہے

ہے حجرہ فقیرمیں بھی صرف سائیں سائیں
رنگینی ِ محافل ِ شاہانہ بند ہے

پہلے بھی قیدِ مرگ میں تھی زندگی یہاں
پر اب کے تو بطرز ِجداگانہ بند ہے

وُہ بام پر اکیلا ہے سنسان ہے گلی
چاروں طرف سے کوچہ جانانہ بند ہے

تنہائی میں بتوں کو خدا یاد آ گیا
اور کس طرح نہ آئے کہ بتخانہ بند ہے

ارمان پھر رہی ہے کھُلی موت شہر میں
اور زندگی کا نعرہ ِمستانہ بند ہے

بشکریہ ڈاکٹر اکمل کمال

یہ بھی دیکھیں

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کینسر کے مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی کیلئے فنڈز کے اجراء کی منظوری دے دی

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کینسر کے مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے