منگل 6 شوال 1442ﻫ - 18 مئی 2021

کتے انسانوں میں کرونا وائرس کا پتہ لگائیں گے: ایک گھنٹے میں 750 سکریننگ متوقع

لندن( خصوصی رپورٹ)انگلینڈ میں ایک ایسے منصوبے پر کام ہورہا جس کے تحت کتوں کو ٹرینڈ کیا جائے گا جو انسانوں میں کورونا وائرس کی موجودگی کا پتہ لگائیں گے. کتے اس قدر تربیت یافتہ ھونگے جو محض ایک گھنٹے میں 750 افراد کی سکریننگ کرسکیں گے. اپنی نوعیت کے منفرد منصوبے کے تحت کتوں کو کورونا کے مریضوں کے کپڑے سونگھائے جائیں گے جس کے ذریعے انہیں کورونا وائرس کا پتہ لگانے میں آسانی ہوگی. برطانوی جریدے ڈیلی مرد کے مطابق Covid-19 پروجیکٹ مشترکہ طور پر میڈیکل ڈیڈیکیشن ڈاگس چئیریٹی،لندن سکول آف ھائی جین اینڈ ٹراپیکل (LSHTM)اور درہم یونیورسٹی کا ہے. اگر دنیا کا اہم ترین منصوبہ کامیاب رہا تو ایک گھنٹے میں 750 افراد کے سکریننگ ہوسکے گی کہ آیا وہ کورونا میں مبتلا تو نہیں.واضح رہے کہ کتوں کو پہلے ہی کینسر،پارکنسنز،اور ملیریا جیسی بیماریوں کا پتہ لگانے کی ٹریننگ دی جاچکی ہے.LSHTM کے ڈیپارٹمنٹ آف ڈیزیز کنٹرول کے سربراہ پروفیسر جیمز لوگن کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ تیزی سے تکمیل تک پہنچ سکتا ہے کیونکہ چھے کتوں کی ٹریننگ کی جارہی ہے.آیندہ چند ہفتوں جے دوران کتوں کو کورونا کے مریضوں کے کپڑے سونھگائے جائیں گے اور یہ معلوم کیا جائے گا کہ کیا کتے کورونا کی بو سونگھ سکتے ہیں.لگ بھگ 8 ہفتوں کے بعد کئی ریسکیو کتےمحض نصف سیکنڈ میں لوگوں میں کورونا کی موجودگی کا پتہ لگانے میں ماہر ہوچکے ہونگے.میڈیکل ڈیڈیکیشن ڈاگس چئیریٹی کے سی ای او اور سربراہ ڈاکٹر کلئیر گیسٹ کا کہنا ہے کہ کتوں کے ذریعے بیماریوں کا پتہ لگانے کے سلسلے میں کئی کامیابیاں حاصل کی جاچکی ہیں.اور مجھے یقین ہے کہ وہ کورونا کی موجودگی کا پتہ بھی لگا سکیں گے.انہوں نے مذید کہا کہ وسائل کی قلت اور ٹیسٹنگ کورس کی کمی کی وجہ سے سکریننگ کا عمل اور رفتار سست رہتی ہے لیکن کتے تیزی کے ساتھ 750 افراد میں کورونا کی موجودگی دریافت کرسکتے ہیں.

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے