ہفتہ 5 رمضان 1442ﻫ - 17 اپریل 2021

بھارت مقبوضہ کشمیر سے اُٹھنے والا طوفان، کرونا سے زیادہ خطرناک ہو گا۔ صدر آزاد کشمیر۔

مظفرآباد، آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے خبردار کیا ہے کہ بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں نورم برگ طرز کے امتیازی قوانین کے بعد دنیا آگ و آہن کے طوفان سے نمٹنے کے لیے تیار رہے۔ بھارت کی مودی حکومت ایسے قوانین بھارت کے شہریوں اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لیے نافذ کر رہی ہیں جو غیر معمولی حد تک نازی جرمنی کے ہٹلر اور اُن قوانین سے مماثلت رکھتے ہیں جو اُس نے یہودیوں کے خلاف بنائے تھے اور جن میں بعد مذید ترامیم کی گئی تھی۔ ایک انگریزی جریدہ کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ ان قوانین کے تحت یہودیوں کو جرمنی کی شہریت، ووٹ کے حق، عوامی عہدہ رکھنے کے حق سے محروم کرنے کے علاوہ یہودیوں کے ساتھ شادی کی ممانعت اور جرمن لڑکیوں کو یہودیوں کے گھروں میں کام کرنے سے روکنے سمیت یہودیوں کو اپنے گھروں پر جرمنی کا جھنڈا لہرانے اور ڈاکٹروں کو جرمن مریضوں کے علاج سے بھی روک دیا گیا تھا۔ جو کچھ گزشتہ صدی کی تیسری اور چوتھی دہائی میں ہٹلر جرمنی میں کر رہا تھا وہی کچھ مودی حکومت اب مقبوضہ کشمیر میں کر رہی ہے اور ایسے قوانین نافذ کئے جا رہے ہیں جن سے کشمیریوں کی اپنی شناخت، اُن کے زمین اور کاروبار کے حقوق اور کشمیر کو ہندو کلچر کے رنگ میں رنگنے کے علاوہ ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر کے اُنہیں نظر بندی کیموں میں بند کرناشامل ہے۔ خود بھارت کے اندر آسام میں مسلمانوں کو ہدف بنا کر شہریت کا قانون نافذ کر کے جرمنی کا تجربہ دہرایا جا رہا ہے اور بی جے پی کے رہنما کھلم کھلا اعلان کر رہے ہیں کہ یہ تجربہ پورے بھارت میں دہرایا جائے گا۔ بھارت میں شہریت اور دوسرے امتیازی قوانین کے خلاف ایک پاپولر تحریک شروع ہو چکی ہے لیکن بین الاقوامی برادری خاص طور پر اقوام متحدہ انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس اور انٹرنیشنل لا کمیشن کو اس معاملے کا فی الفور نوٹس لیا چاہیے۔صدر سردار مسعود خان نے اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کی ہائی کمشنر مشعل بیکلے کی طرف سے بھارت سپریم کورٹ میں اقوام متحدہ کو فریق بنانے کی درخواست دائر کرنے اور اُن کی طرف سے بھارت کے 2019 کے متنازعہ شہریت قانون میں متنازعہ ترمیمی قانون کا مقدمہ میں تیسر ا فریق بنانے کی تحریک پر اُنہیں سلام پیش کرتے ہوئے مشعل بیکلے نے ایسا کر کے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے عہدا برا ہونے کی کوشش کی ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ اس سال جنوری میں یورپین پارلیمنٹ کے 751 ممبران پر مشتمل ایک بڑے بلاک نے چھ سے زیادہ قرار دادیں منظور کر کے بھارت کے امتیازی شہریت قانون اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کی مذمت کی۔ ان مذمتی قرار دادوں میں دیگر باتوں کے علاوہ یہ بات خاص طور پر کہی گئی کہ بھارت کا شہریت قانون اور دیگر اقدامات دنیا میں ”اسٹیٹ لیس نس“ کا بحران پیدا کرے گا۔ یورپین سیاستدانوں کی یہ وراننگ پوری انسانی برادری کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے جس پر کان دھرنے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر نازی طرز کے قوانین کے نفاذ سے جو طوفان اُٹھے گا اُس کو قابو کرنا کرونا وبا سے زیادہ مشکل ہو گا۔ دنیا یہ تصور کر سکتی ہے کہ بھارتی اقدامات کے نتیجہ میں لاکھوں مہاجرین زمینی اور بحر ئی راستوں سے ایشیا پیسیفک، یورپ اور شمالی امریکہ کے خطوں میں داخل ہوں گے کیونکہ وہ ان خطوں میں بھارت کے مقابلہ میں زیادہ محفوظ خیال کریں گے۔

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے