اتوار 15 ذوالحجہ 1442ﻫ - 25 جولائی 2021

سعودی عرب میں کوڑوں کی سزائیں ختم

ریاض( پرو اردو)سعودی عرب نے کوڑے مارنے کی سزا ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جسے سعودی نظام میں اب تک کی جانے والی سب سے بڑی تبدیلی قرار دیا جارہا ہے حتی کہ اس روایت کے خاتمے کو خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت سے بھی بڑی پیش رفت تصور کیا جارہا ہے.یہ سعودی فرمانروا اور انکے مظبوط اور با اختیار ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے سعودی عرب میں اصلاحات کی جانب ایک اور اہم قدم ہے .انسانی حقوق کی تنظیمیں طویل عرصہ سے عدالتوں سےکوڑوں کی سزاؤں کو غیر انسانی اور ظالمانہ قرار دیتی آرہی ہیں. بعض اوقات سینکڑوں کوڑوں کی سزائیں دی جاتی ہیں.خاص طور سے جنسی جرائم پر ایسی سزائیں عام ہیں.تاہم سنگین جرائم پر موت کی سزا برقرار رہے گی.سعودی عرب کے سرکاری ہیومن رائیٹس کمشن نے کہا ہے کہ نئی اصلاحات کے آیندہ سے کوڑوں کی سزائیں بلکل نہیں دی جائیں گی.کمشن کے چئیرمین ایوید ال ایوید نے کہا ہے کہ جنہیں کوڑے مارنے کی سزا دی جاچکی ہیں انہیں اب اس کے بجائے جرمانے یا قید کی سزائیں دی جائیں گی.عدالتیں زنا سے لیکر امن و امان میں نقص ڈالنے والوں اور قاتلوں کو کوڑوں کی سزائیں دیتی آرہی تھیں.مستقبل میں ججز جرمانے قید کی سزائیں یا کمیونٹی سروسز کا حکم دیا کریں گے.اب تک کوڑوں کی سب سے بڑی سزا ایک سعودی بلاگر ریف بدایوی کی دی گئی ہے. جسے 2014 میں اسلام کی تضحیک کے الزام میں ایک ہزار کوڑوں اور دس سال قید کی سزا دی گئی تھی.مسٹر ریف کو 2015 میں یورپین پارلیمنٹ کی طرف سے انسانی حقوق کا ایوارڈ دیا گیا تھا.

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے