منگل 1 رمضان 1442ﻫ - 13 اپریل 2021

کورنگی کے نجی اسپتال انتظامیہ کی جانب سے نوجوان لڑکی کی مبینہ طور پر کرونا سے موت کا معاملہ۔

کورنگی کے نجی اسپتال انتظامیہ کی جانب سے نوجوان لڑکی کی مبینہ طور پر کرونا سے موت کا معاملہ۔

علاقہ مکینوں کے شدید احتجاج کے بعد اسپتال انتظامیہ نے ورثاءکو دوسرا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی یقین دہانی کرواکر غلطی تسلیم کرلی۔ذرائع

کورنگی نمبر ایک کی رہائشی 25 سالہ کلثوم دختر عبدالرؤف کو الٹیاں ہونے پر گزشتہ روز کورنگی ڈھائی نمبر پر واقع چنیوٹ اسپتال لایا گیا تھا، جہاں لڑکی کا انتقال ہوگیا۔

اسپتال کی آر ایم او ڈاکٹر صدف اقبال نے متوفیہ کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر وجہ موت کرونا قرار دے دی تھی۔

ورثا کے احتجاج پر اسپتال انتظامیہ کی جانب سے دوسرا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے بعد سرد خانے والوں نے لاش کو سرد خانے میں رکھنے کی اجازت دی۔

نجی اسپتال نے سندھ حکومت کے انسانیت سوز احکامات کی بجاآوری کرتے ہوئے ڈیتھ سرٹیفکیٹ رسید/ سیریل نمبر 219 میں موت کی وجہ history of fever ,cough,shortness of breath,suspected corona بخار،کھانسی، سانس کی دشواری اور کرونا بتائی تھی۔

میڈیا اور سوشل میڈیا پر شور مچا تو چنیوٹ اسپتال والوں نے نیا سرٹیفکیٹ رسید/ سیریل نمبر 221 جاری کیا جس میں موت کی وجہ cardiac pulmonary arrest دل کے امراض، ہارٹ بیٹ کا مسئلہ بتایا گیا۔

اس وقت تک متاثرہ فیملی کے گھر پر پولیس کا پہرہ لگ چکا تھا اور گھر والے house arrest کر دیئے گئے تھے اور متاثرہ فیملی کو محلے والوں، رشتہ داروں، دوست احباب تک سے ملنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

مذکورہ اسپتال سندھ گورنمنٹ کی ہدایت پر نہیں چلتا تو لائسنس منسوخ اور اسپتال سیل بھی ہوسکتا تھا، جیسا کہ کراچی میں فیکٹریوں، مارکیٹوں اور دکانوں کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ذرائع

اطلاعات کے مطابق ایک وفاقی سیکریٹری نے مداخلت کرکے متاثرہ فیملی کی پولیس سے جان بخشی کرائی۔

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے