پیر 13 صفر 1443ﻫ - 20 ستمبر 2021

تیونس گے میرج کو تسلیم کرنے والا پہلا عرب ملک بن گیا؟

برلن( پرو اردو)براعظم افریقہ میں واقع تیونس وہ پہلا عرب اور غالبا مسلم ملک بھی بن گیا ہے جہاں گے میرج(ھم جنس پرستوں کے درمیان شادی )کی اجازت دیدی گئی ہے. یروشلم پوسٹ کی ایک رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ تیونس میں ھم جنس پرستوں کے حقوق کی ایک تنظیم نے کہا کہ عرب ریاست نے گے میرج کی باضابطہ اجازت دیدی گئی ہے.تیونس کی گے تنظیم شمس(SHAMS) نے اپنی فیس بک پوسٹ میں کہا ہے ریپبلک آف تیونس نے ایسی غیر فطری شادیوں کی اجازت دیدی ہے.شمس کی پوسٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ عرب دنیا کی تاریخ میں پہلی ایک فرانسیسی مرد اور ایک تیونس مرد کے درمیان شادی کے معاہدے کو قانونی دستاویز کا درجہ دیا گیا ہے.شمس کے صدر منیر بٹور کا کہنا ہے کہ اگرچہ تیونس میں ھم جنس پرستی قابل سزا ہے اور جیلوں میں متعدد ہم جنس پرست سزا بھگت رہے ہیں لیکن اسی ملک میں ایک گے جوڑے کی شادی قبول کرلی گئی ہے. منیر بٹور اسرائیل سے سفارتی تعلقات کے زبردست حامی ہیں.وہ ھم جنس پرستی پر سزا ختم کرنے کی تحریک بھی چلا رہے ہیں.یروشلم پوسٹ نے گزشتہ ماہ ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ شمس نے اعلان کیا تھا کہ ملکی عدالت نے اس کی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے تنظیم کی بندش کے اقدامات کو غلط قرار دیا ہے.جس پر منیر بٹور نے کہا تھا کہ یہ شمس کی زبردست فتح ہے جسے سالوں کی جدوجہد کے بعد ملک میں قانونی حیثیت مل گئی.

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے