بدھ 25 ذوالحجہ 1442ﻫ - 4 اگست 2021

نیویارک میں سوشل ڈسٹنسنگ کی خلاف ورزیوں میں اضافہ: پولیس کو سختی کا حکم

نیویارک( پرو اردو) نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کو حکم دیا گیا ہے کہ نیویارک سٹی میں سوشل ڈسٹنسنگ یعنی سماجی تفاوت کے قانون کی پابندی نہ کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے. نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ نیویارک سٹی کے تمام بوروز میں ایک ہزار سے زائد پولیس آفیسرز تعینات کیے جارہے ہیں تاکہ سوشل ڈسٹنسنگ کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروایا جاسکے.NYPD کو ایسی متعدد شکایتیں اور اطلاعات موصول ہوئی ہیں جو سوشل ڈسٹنسنگ کی خلاف ورزیوں سے متعلق ہیں.واضح رہے کہ درجہ حرارت بڑھتے ہی یعنی موسم کی تبدیلی کے ساتھ۔ نیویارکرز میں آوٹ ڈور سرگرمیوں کا رجحان بڑھ جاتا ہے جن میں باربی کیو، سٹریٹ فیسٹیولزاور دیگر اجتماعات شامل ہیں. پولیس چیف ٹیرنس موناہن نے کہا کہ ایسے اجتماعات اگرچہ نیویارک سٹی کی روایات کا حصہ ہیں تاہم جان سےزیادہ کچھ بھی اہم نہیں ہے. اسلئے ھم ایسی سرگرمیوں کی سختی سے حوصلہ شکنی کی جائے گی.انہوں نے کہا کہ پولیس ساتھ ساتھ چلنے والوں، ایکسر سائز کرنے والوں اور گھروں میں فیملیز کو کچھ نہیں کہے گی اور نہ ہمیں ان سے کوئی مسئلہ ہے.چیف ڈیٹرنس نے کہا کہ عوام سوشل ڈسٹنسنگ پولیس پیدل یا موٹر گاڑیوں پر دیکھ سکیں گے جو قوانین پر سختی سے بھی عملدرآمد کرو آسکتے ہیں.انہوں نے کہا کہ ہم عوام کو باور کرائیں گے کہ سوشل ڈسٹنسنگ قوانین پر عملدرآمد ھم سب کی یکساں ذمہ داری ہے اور اس سے کورونا وائرس کی روک تھام میں آسانی ہوگی.16 مارچ سے اب تک پولیس سوشل ڈسٹنسنگ قوانین کی خلاف ورزیوں پر 65 افراد کو گرفتار اور 350 سے زائد کو طلبی و جرمانے کے نوٹسز جاری کرچکی ہے.انہوں نے کہا کہ لوگوں کو معلوم ہونا چائیے کہ یہ وائرس کتنا خطرناک ہے.نیویارک سٹی کے مئیر بل ڈی بلازیو بھی اجتماعات کے حوالے سے خبردار کرچکے ہیں.گزشےہ دنوں سخت گیر جیوش کمیونٹی Hasidic Jewish کے ایک فیونرل سے متعلقہ اجتماع میں سینکڑوں افراد کی شرکت پر سخت غصے کاا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا تمام نیویارکرز کے لیے ایک ہی پیغام ہے کہ ایسے اجتماعات خواہ وہ سماجی ہوں یا مذہبی عدم برداشت کی پالیسی ہے. خلاف ورزی پر سختی سے نمٹا جا سکتا ہے.

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے