اتوار 6 رمضان 1442ﻫ - 18 اپریل 2021

امریکہ میں تارکین وطن کی جیلوں میں کورونا کی وجہ سے تشدد پھوٹ پڑے

نیویارک ( محمد فرخ)کورونا وائرس کے اثرات امریکی جیلوں میں بھی پہنچ چکے ہیں اور امریکہ کے طول و عرض میں متعدد جیلوں کے ہزاروں قیدی اور سٹاف بھی وائرس کا شکار ہوچکے ہیں. مختکف ریاستوں میں متعلقہ حکومتیں قیدیوں کے حوالے سے اپنے طور سے فیصلے کررہی ہیں بعض ریاستوں میں صورتحال کے پیش نظر قیدیوں کو قبل از وقت رہا کیا جارہا ہے. تاہم امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی زیرنگرانی ڈیٹنشن سینٹرز یا کوریکشن فیسیلٹیز کی صورتحال نازک ہوتی جارہی ہے جہاں زیر حراست تارکین وطن حکام پر ناروا سلوک اور انہیں نظر انداز کرنے کا الزام عائد کررہے ہیں.جس کی وجہ سے امیگریشن جیلوں میں تصادم کے واقعات بھی رونما ہورہے ہیں جس کی ایک بڑی مثال ریاست میسا چوسٹس میں واقع ایک ڈیٹنشن سنٹر میں تشدد کے واقعات ہیں جن میں شدت آتی جارہی ہے. زیر حراست امیگرینٹس کے لواحقین اور وکلاء کے مطابق برسٹل کاؤنٹی ہاؤس آف کوریکشن میں تارکین وطن اور جیل کے حکام کے درمیان جھڑپوں کے دس واقعات پیش آچکے ہیں اگرچہ مقامی حکام اور ICE کے افسران حقائق چھپا رہے ہیں تاہم وکلاء اور جیل کے بعض افسروں نے جھڑپوں کی تصدیق کی ہے. حکام کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی جانب سے تشدد کے جواب میں کارروائی کی گئی تھی تاکہ گڑ بڑ کو روکا جاسکے.اگرچہ کاؤنٹی شیرف اور ICE کی جاری کردہ تفصیل مختکف ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ کوریکشن سینٹر کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے.قیدیوں کی بڑی تعداد کورونا وائرس کا شکار ہے اور مریضوں کی تعداد تیزی سے پھیل رہی ہے لیکن متعلقہ حکام پردہ پوشی کررہے ہیں.جس کی وجہ سے بڑے نقصان کا اندیشہ ہے.کاؤنٹی شیرف کا کہنا ہے کہ سینٹر کے 10 قیدیوں میں کورونا کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی. باقی قیدیوں سے کہا گیا کہ انہیں کورونا ٹیسٹ کرانا ہوگا تاھم انہوں نے ٹیسٹ کروانے سے انکار کردیا جس کی وجہ سے کشیدگی پیدا ہوئی قیدیوں نے توڑ پھوڑ مچائی جس پر جیل حکام کو طاقت کا استعمال کرنا پڑا انکا یہ بھی کہنا ہے کہ قیدیوں کی طرف سے تشدد کا آغاز ہوا. دوسری طرف وکلاء، قیدیوں کے لواحقین اور انسانی و امیگرینٹس حقوق کے علمبرداروں کا الزام ہے کہ ICE اور شیرف کے عملہ کی طرف سے قیدیوں پر تشدد کیا گیا.متعدد قیدیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں.بوسٹن میں قائم انسانی حقوق کے ایک حامی گروپ “لائرز فار رائٹس” نے مارچ میں برسٹل کاؤنٹی شیرف اور ICE کے خلاف لاء سوٹ فائل کیا تھا جس میں کورونا وبا کے دوران تارکین وطن قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا.گروپ کے مطابق اسکی کوششوں سے برسٹل کاؤنٹی ہاؤس آف کوریکشنز سے اب تک 50 سے زائد قیدیوں کو رہائی مل چکی ہے.امریکہ بھر میں ICE کے زیرانتظام 25 ڈیٹنشن سینٹرز میں530 قیدیوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے.گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے.17 اپریل سے اب تک 400 سے زائد قیدی کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں.

یہ بھی دیکھیں

اسلام آباد :خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پی ٹی آئی رہنماء عثمان ڈار کا پیغام۔ 

اسلام آباد :خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پی ٹی آئی رہنماء عثمان ڈار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے