منگل 1 رمضان 1442ﻫ - 13 اپریل 2021

کراچی میں کورونا وائرس سے متاثرہ ڈاکٹر فرقان وینٹی لیٹر کے نہ ملنے کے باعث جان کی بازی ہار گئے

کورونا وائرس سے متاثرہ ‏کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیزز کے ڈاکٹر فرقان بروقت وینٹیلیٹر نہ ملنے پر وفات پا گئے. طبعیت خراب ہونے پر کسی بھی آئی سی یو میں جگہ نہ مل سکی۔

سینیئر میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر سلمیٰ کوثر کے مطابق 60 سال کے ڈاکٹر فرقان نجی اسپتال میں خدمات انجام دے رہے تھے جہاں وہ مہلک وائرس سے متاثر ہوئے۔

 

انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر فرقان کی اہلیہ میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ ڈاکٹر فرقان کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیزز (کے آئی ایچ ڈی) سے ایک ماہ قبل ریٹائر ہوئے تھے۔

دوسری جانب پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فرقان 4 دن قبل کورونا کا شکار ہوئے تھے اور انہیں 24 گھنٹے قبل وینٹی لیٹر کی اشد ضرورت پڑی لیکن ایس آئی یو ٹی اور انڈس اسپتال سمیت کہیں وینٹی لیٹر پر جگہ موجود نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ اہل خانہ 2 گھنٹے سے زائد ڈاکٹر فرقان کو ایمبولینس میں لیکر وینٹی لیٹر تلاش کرتے رہے اور بلآخر وہ مردہ حالت میں اوجھا اسپتال پہنچائے گئے۔

خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے متعدد ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف مہلک وائرس کا شکار ہو رہے ہیں جبکہ اب تک 3 ڈاکٹر مہلک وائرس کے باعث جاں بحق ہوچکے ہیں

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے