جمعرات 16 صفر 1443ﻫ - 23 ستمبر 2021

دنیا بھر میں صحافیوں کے لئےچیلنجز:واشنگٹن میں پاکستانی امریکن پریس ایسوسی ایشن کا ویبینار

واشنگٹن(پرو اردو)دنیا بھر میں صحافت کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے، صحافی اپنی جان ہتھیلی پررکھ کر اپنے فرائض کی ادائیگی کررہے ہیں، کورونا وائرس کی وبا کے دوران صحافی فرنٹ لائن کا کردار ادا کررہے ہیں، صحافیوں کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر ایک ویب نار کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستانی امریکن پریس ایسوسی ایشن کے صدر خرم شہزاد، سینئر صحافیوں آصف علی بھٹی، ضمیر حیدر خان، آفاق فاروقی اور وائس آف امریکہ کے سینئر صحافی ثاقب الاسلام نے اظہار خیال کیا، شرکا کا کہنا تھا کہ آزادی صحافت کی درجہ بندی میں پاکستان ایک سال میں تین درجے نیچے آیا ہے ، اور دنیا کے 180 ممالک کی درجہ بندی میں پاکستان کا نمبر 142 سے گر کر 145 ہوگیا ہے، سال 2019 میں پاکستان میں سات صحافی پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران قتل کردئیے گئے، 90 سے زیادہ کو زخمی کردیا گیا، اسی طرح گزشتہ 6 سال کے دوران 30 صحافیوں کو تل کردیا گیا، شرکا نے کہا کہ میڈیا کو ہر دور میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، اظہار آزادی رائے پر پابندیاں لگانے کی کوششیں کی جاتی رہی ییں، آزادی صحافت کو میڈیا نے خود اپنے زور بازو پر برقرار رکھنا ہے،
حکومتوں کو ایکسپوز کیا جائے تو حکمران برا مان جاتے ہیں اور صحافیوں کو تنگ کرتے ہیں، حکمرانوں کا رویہ کبھی میڈیا سے اچھا نہیں رہا، شرکا نے کہا کہ امریکہ جیسے ملک میں صدر ٹرمپ سے میڈیا کو شکایت ہے کہ ان کا میڈیا سے رویہ ٹھیک نہیں، ان حالات میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ترقی پزیر ممالک میں حکمرانوں کا اپنے میڈیا سے کیا معاملہ ہوسکتا ہے، انڈیا میں بھی صحافت پر متعدد بار قدغن لگائی گئی، حکومت وقت کے خلاف بات کرنے کی اجازت نہیں، شرکا نے کہا کہ اس وقت صحافیوں کو متحد ہونا ہوگا تاکہ آزادی صحافت کی آواز کو کوئی دبا نہ سکے۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے