اتوار 3 ذوالقعدہ 1442ﻫ - 13 جون 2021

ویاگرا کی خالق کمپنی “فائزر”نے کورونا کے خلاف تجرباتی ویکسئین کے انسانوں پر تجربات شروع کردئے: سال کے اختتام تک 20 ملین ڈوز تیار کرنے کا ٹارگٹ

نیویارک( رپورٹ: محمد فرخ)کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے پہلی بارخاطر خواہ ویکسئین کا نیویارک میں انسانوں پر کلینیکل ٹرائل شروع ہوگیا ہے. اور ممکنہ طور پر ویکسئین عام استعمال کے لئے اس سال کے اختتام تک دستیاب ہوگی. نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق نیویارک کے اولین مریضوں کو کورونا ویکسئین ( COVId-19 mRNA) دی گئی ہے.امریکہ میں انسانی تجربات کا آغاز ہوچکا ہے. اب یہ سلسلہ نیویارک میں بھی جاری ہے.یونیورسٹی آف میری لینڈ اور نیویارک یونیورسٹی لینگون ھیلتھ( Langone Health) میں والنٹیرز کو تجرباتی ویکسئین کے ڈوز دئیے گئے.کلینکل تجربات “محبت کی دوا”ویاگرا کی خالق فارماسوٹیکل کمپنی فائزر اور بائیواین ٹیک ( BioNTech)کمپنی کے تعاون سے کئے جارہے ہیں. مذکورہ کمپنیاں ویکسئین تیار کررہی ہیں.اسی طرح کا ٹرائل جرمنی میں حال ہے میں کیا گیا ہے.دونوں ممالک میں جاری ٹرائل کےلئے صحتمند والنٹیرز کا انتخاب کیا گیا ہے جنہیں چار تجرباتی ویکسئین میں سے ایک کے دو دو ڈوز دئیے جارہے ہیں.ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ویکسئین کامیاب ثابت ہوئیں اور انکی منظوری مل گئی وہ لاکھوں کروڑوں ڈوز (Doses)تیار کرسکیں گے.رائیٹرز نیوز ایجنسی نے فائزر کے حوالے سے بتایا کہ اسے امید ہے کہ امریکی محکمہ خوراک و ادویات (Food and Drugs Administration )کی طرف سے اکتوبر تک ہنگامی بنیادوں پر اجازت مل جائے گی اور ھم سال کے اختتام تک بیس ( 20) ملین ڈوز تقسیم کرنے کے قابل ہوجائیں گے.اگر 9 مہینے کے اندر ویکسئین تیار ہوگئی تو ریکارڈ ساز اور کسی عجوبہ سے کم نہ ھوگا کیونکہ ویکسئین کی تیاری میں ایک عشرہ بھی لگ جاتا ہے.یونیورسٹی آف میری لینڈ کے سینٹر برائے ویکسین ڈیولپمنٹ اینڈ گلوبل ہیلتھ کے ڈائریکٹر کرسٹن لائیک کا کہنا ہے کہ تجربات مئی سے اکتوبر تک جاری رہیں گے.نیویارک یونیورسٹی لینگون ھیلتھ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مارک مولیگن کا کہنا ہے کہ جتنی بھی جلدی ممکن ہوا ہم ٹرائل مکمل کرلیں گے.نیویارک ویکسئین ٹرائلز کے لئے سب سے اہم مرکز ہے ڈاکٹر مولیگن نے کہا کہ ویکسئین ھمیشہ سے متعدی بیماریوں اور وباؤں کی روک تھام اور خاتمے کے لئے موثر ہتھیار رہے ہیں. کورونا کو بھی شکست دینے کے لیے ویکسین ہی قابل عمل ذریعہ ہے.پہلے مرحلہ میں 18 سے 55 سال کی عمر تک کے افراد کو شامل کیا گیا ہے جبکہ دوسرے مرحلہ میں 65 سے 85 سال کے ایج گروپ کو رکھا جائے گا. ینگ گروپ میں ٹرائل کی کامیابی کی صورت میں بڑی عمر کے لوگوں پر ویکسئین کے تجربات کئے جائیں گے.

یہ بھی دیکھیں

وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ کا کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق بیان۔ 

وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ کا کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق بیان۔ گزشتہ 24 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے