پیر 20 صفر 1443ﻫ - 27 ستمبر 2021

ڈاؤ یونیورسٹی کو کورونا کے علاج کے انجیکشن کےلیے پلازمہ جمع کرنے کی اجازت

کراچی :سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی نے ڈاؤ یونیورسٹی کو امیونوگلوبیولن (آئی وی آئی جی ) کی تیاری کےلیے پلازمہ جمع کرنے کی اجازت دے دی

کراچی : امیونوگلوبیولن (آئی وی آئی جی ) کی تیاری کےلیے اجازت سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی نے دی

کراچی :ڈرگ ریگیولر اتھارٹی آف پاکستان پہلے ہی کلینیکل ٹرائل کی منظوری دے چکی ہے

کراچی :ملک میں کرونا کےبڑھتے مریضوں کے علاج میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نےاہم کامیابی حاصل کرلی سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی نے ڈاؤ یونیورسٹی کو امیونوگلوبیولن (آئی وی آئی جی یاوریدی انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی دوا) کی تیاری کےلیے پلازمہ جمع کرنے کی اجازت دے دی جبکہ اس سے پہلے گذشتہ مہینے کے وسط میں نیشنل بائیو ایتھکس کمیٹی نے کلینکل ٹرائل کی منظوری دے دی تھی۔یادرہے کہ ڈاؤ یونیورسٹی کے ماہرین نے اپریل کے اوائل میں کورونا کے علاج کےلیے انٹرا وینیس امیونو گلوبیولن (وریدی انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی دوا)تیار کرلی تھی۔

اس طریقہ علاج میں کورونا سے صحت یاب مریض کے خون میں نمو پانے والے اینٹی باڈیز کو علیحدہ کرنے کے بعد شفاف کرکے امیونو گلوبیولن تیار کی جاتی ہے یہ طریقہ علاج پلازما تھراپی سے بالکل ہی مختلف ہےتاہم یہ امیونو گلوبیولن پلازما سے ہی کشید کی جاتی ہے ریسرچ ٹیم کے سربراہ پروفیسر شوکت علی کے مطابق امیونو گلوبیولن کی تیاری کے لیے بڑی مقدار میں پلازما جمع کرنے کی ضرورت پڑے گی اس کے لیےسندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی سے پلازما جمع کرنے کی اجازت طلب کی گئی تھی جو مل گئی ہے جبکہ ڈرگ ریگیولیٹری اتھارٹی بھی گذشتہ مہینے

کے آخر میں اس (وریدی انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی )دواکےکلینیکل ٹرائل کی منظوری دے چکی ہے واضح رہے کہ یہ طریقہ علاج امریکی ادارے ایف ڈی اے سے منظورشد ہ محفوظ، لورسک اورکورونا کے خلاف انتہائی موثر ہے ڈاؤ یونیورسٹی کی ٹیم ابتدائی طور پرمارچ 2020 میں خون کے نمونے جمع کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی بعد ازاں اس کے پلازما سے اینٹی باڈیزکو کیمیائی طور پر الگ تھلگ کرنے ، صاف شفاف کرنے اور بعد میں الٹرا فلٹر تکنیک کے ذریعے ان اینٹی باڈیز کو مرتکز کرنے میں کامیاب ہوگئی اس طریقے میں اینٹی باڈیز سے باقی ناپسندیدہ مواد جن میں بعض وائرس اور بیکٹیریا بھی شامل ہیں انہیں ایک طرف کرکے حتمی پروڈکٹ یعنی ہائپر امیونوگلوبیولن تیار کرلی جاتی ہے یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ دنیا میں پہلی مرتبہ پاکستان میں کورونا سے صحت یا ب مریض کے خون سے یہ امیونوگلوبیولن تیار کی گئی ہےپروفیسر شوکت علی کے مطابق یہ طریقہ غیرمتحرک مامونیت(پے سو امیونائزیشن) کی ہی ایک قسم ہے مگر اس میں مکمل پلازمہ استعمال کرنے کے بجائے اسے شفاف کرکے صرف اینٹی باڈیز ہی لیے جاتے ہیں اس محفوظ اورموثر طریقہ کار کو اس سے پہلے بھی بڑے پیمانے پر دنیا میں پھیلنے والے وبائی امراض سارس،مرس،اور ابیولا میں موثر طورپر استعمال کیاجاچکاہے جبکہ تشنج،انفلوئنزا اور رےبیز کی شفاف اینٹی باڈیز دنیا میں تجارتی سطح پر فروخت کےلیے بھی دستیاب ہوتے ہیں ریسرچ ٹیم نے کوووڈ نائینٹین کے صحتیاب مریضوں کی جانب سے کم مقدار میں عطیہ کیے گئے خون کو شفاف کر کے اینٹی باڈیز علیحدہ کیے جو کورونا کو غیرموثر کرچکے تھے انکی لیبارٹری ٹیسٹنگ اور حیوانوں پر اس کا سیفٹی ٹرائل کرکے حاصل ہونے والی ہائپر امیونوگلوبیولن کو کامیابی کے ساتھ تجرباتی بنیادوں پر انجیکشن کی شیشیوں (وائلز)میں محفوظ کرلیا تھا تاہم بڑے پیمانے پر انجیکشن تیار کرنے کےلیے بڑی مقدار میں پلازما کے عطیات کی ضرورت ہے ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کی جانب سے پلازما جمع کرنے کی اجازت ملنے پر ریسرچ ٹیم کو مبارکباددی ہے اور انہیں ہدایت کی ہے کہ جس محنت دیانت اور خلوص کے ساتھ یہ امیونوگلوبیولن تیار کی گئی ہے اب انسانیت کی خدمت کے جذبے کےعمل کا آغاز کیاجائے یقین کامل ہے کہ آپ کی محنت رنگ لائے گی ۔

یہ بھی دیکھیں

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام مذہبی امور

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے