منگل 21 صفر 1443ﻫ - 28 ستمبر 2021

پنسلوانیا میں چائیلڈ میرج کا خاتمہ: تیسری امریکی ریاست جہاں قانون سازی کی گئی

فلاڈلفیا( خصوصی رپورٹ)پنسلوانیا امریکہ کی تیسری ریاست بن گئی جہاں 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی غیر قانونی قرار دیدی گئی ہے.ریاستی گورنر ٹام وولف نے قانونی مسودے پر دستخط کردئے ہیں جس کے بعد چائیلڈ میرج کو غیر قانونی قراد دیدیا گیا ہے.ابھی تک یوجرسی اور ڈیکور وہ دو ریاستیں تھیں جہاں بچوں کی شادی غیر قانونی ہے.پنسلوانیا کی قانون ساز اسمبلی بھاری اکثریت سے قانون کی منظوری دے چکی تھی اب گورنر کے دستخط کے بعد یہ بل قانونی شکل اختیار کرچکا تھا نئے نافذ العمل قانون کے تحت ریاست میں شادی کی کم سے کم عمر 18 سال ہوگی اس سے کم عمر کے نوجوانوں کو لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا.قبل ازیں 16 سے کم عمر لڑکے لڑکیاں عدالت کے ذریعے میرج لائسنس حاصل کرسکتے تھے جبکہ 16 سے 18 سال کے نوجوان والدین میں سے کسی کی منظوری سے لائسنس حاصل کرسکتے تھے. تاہم اب پنسلوانیا میں 18 سال سے کم عمر لڑکے لڑکیاں کسی طور بھی میرج لائسنس حاصل نہیں کرسکیں گے.امریکہ میں زبردستی اور چائلڈ میرج کی روک تھام کے لئے سرگرم عمل Unchained نامی تنظیم کے مطابق 2014 سے اب تک ریاست میں مذکورہ شرائط کے تحت 15 سے 17 سال کی عمر کے 2300 سے زائد بچوں کی شادیاں ہوچکی ہیں.گورنر وولف نے کہا کہ چائیلڈ میرج پر پابندی سے بچوں کے استحصال کا خاتمہ ہوگا.انہوں نے کہا کہ شادی ایک مقدس اور سنجیدہ عزم ہے. یہ دو بالغوں کے درمیان پیار محبت کا نام ہے اسے بڑوں کی بے اصولی پن سے بچوں کے استحصال کا ذریعہ نہیں بنانا چاہئے.Unchained کے مطابق 2000 سے 2010 کے درمیان امریکہ میں دو لاکھ 48 ہزار سے زائد بچوں کی شادیاں ہوئیں جن میں بعض کی عمریں 12 سال تک بھی تھیں.کم عمر بچوں میں اکثریت لڑکیوں کی تھیں.تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ “ رومیو جیو لیٹ”افیئر نہیں کیونکہ اکثر نو عمر لڑکیوں کی شادیاں بڑی عمر کے نوجوانوں سے کرائی جاتی رہی ہیں.

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے