جمعہ 27 ذوالحجہ 1442ﻫ - 6 اگست 2021

چیئرمین صادق سنجرانی کی سربراہی میں سینیٹ کا اجلاس، کورونا وائرس کی صورتحال پر بحث

اسلام آباد، چیئرمین صادق سنجرانی کی سربراہی میں سینیٹ کا اجلاس شروع ہوا۔ جس میں ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال پر بحث کی جارہی ہے۔

قائد حزب اختلاف راجہ ظفرالحق نے کہا کہ حکومت کو چاہیے تھا کہ اپوزیشن کی ریکوزیشن سے پہلے خود اجلاس بلاتی، چیئرمین سینٹ نے اسمبلی ہال مانگا تو بتایا گیا کہ وہاں قومی اسمبلی اجلاس ہے، وبا کے دوران اتحاد کی ضرورت تھی لیکن وزیر اعظم نے تقسیم پیدا کی اور کہا گیا لاک ڈاؤن اشرفیہ نے کرایا۔ صوبے کوئی فیصلے کر رہے ہیں وفاق کچھ ،تاثر دیا جا رہاہے سندھ حکومت عوام دشمن ہے، اپوزیشن کے حوالے سے حکومتی رویہ افسوسناک ہے، جو اپوزیشن کے خلاف بات کرے اسے شاباش ملتی ہے۔

پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا کہ یہ ایسا وقت ہے جہاں ہمیں یکجہتی کی ضرورت ہے لیکن ایک تقسیم کی سی صورت حال کا سامنا ہے، آج اسمارٹ تو کل کریزی لاک ڈاوَن اور پتہ نہیں کیا کیا ہورہا ہے؟ ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ وزیراعظم کورونا سے نہیں ڈرتے لیکن پارلیمان میں آتے نہیں۔ وزیراعظم کہاں اور لاپتہ کیوں ہیں؟ سنگین صورت حال میں وفاق سے غلطی ہوتی ہے تو کل ہم سے ہو گی۔

شیری رحمان نے کہا کہ کورونا کیسز سے متعلق اعداد وشمار کے حقائق کے مسائل کا سامنا ہے، حالات ایسے بننے جارہے ہیں کہ ہمارے پاس صحت وسائل ختم ہورہے ہیں، لاک ڈاوَن میں نرمی پر حکومت کا پیغام واضح نہیں ہے، لاک ڈاؤن میں نرمی ہوتے ہی عید کی خریداری کی جارہی ہے۔

اس موقع پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کوئی شک نہیں کہ کورونا وائرس ایک چیلنج ہے،مالی طور پر مستحکم ممالک بھی کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں، حکومت نے وقتی طور پر تسلی بخش اقدامات کیے ہیں لیکن کورونا کا حل لاک ڈاؤن نہیں ہے۔ کورونا سے بچاؤ کی ویکسین کب تیار ہوگی اس کا کسی کو علم نہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہاں پوچھا گیا کہ وزیراعظم کہاں ہیں؟ تو بتاتا چلوں کہ وزیراعظم اسلام آباد میں ہی موجود ہیں، وہ روزانہ کی بنیاد پر کورونا سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ قومی ایمرجنسی ہے اور سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

ن لیگی سینیٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق کورونا کیسز کی تعداد بڑھ یرہی ہے، اس وقت حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے کا وقت ہے، ہم نے احساس کفالت پروگرام پرتنقید نہیں کی، جب تک اس وائرس کی کمر ٹوٹے لاک ڈاؤن کو برقرار رکھیں، عید تک مؤثر لاک ڈاؤن کیا جائے، مشکوک ایریاز میں سو فیصد جب کہ غیر مشکوک ایریاز میں رینڈم ٹیسٹ کئے جائیں، ریڈ زون کو قرنطینہ اور گرین زون میں معاشی سرگرمیاں شروع کی جائیں۔

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے