منگل 13 ربیع الاول 1443ﻫ - 19 اکتوبر 2021

کورونا نے امریکی پاسپورٹ کی کشش کم کردی: 3ماہ میں 3 ہزار شہریت سے دستبردار

نیویارک ( خصوصی رپورٹ ) امریکی شہریت ترک کرنے کا رجحان ماضی کی تمام حدیں پھلانگ گیا ہے. ایک محتاط اندازے کے مطابق رواں سال یعنی 2020 کے پہلے تین ماہ میں2910ا نے امریکی شہریت ترک کی جو اکتوبر سے دسمبر2019 کے مقابلہ میں 1051 فیصد زیادہ ہےجب مجموعی طور پر 261 افرادامریکی شہریت دستبردار ہوئے تھے.جبکہ 2019 میں پورے سال شہریت ترک کرنے والے سابقہ امریکنز کی تعداد 2072تھی.دو تحقیقاتی گروپوں Bambridge New York اور Enrolled Accountants نے اس بات کا انکشاف کیا ہے.اب تک 3 ماہ کے عرصہ میں اس قدر بڑی تعداد میں امریکنز نے کبھی شہریت ترک نہیں کی.کسی ایک سہ ماہی میں اس سے قبل یہ ریکارڈ 2016 میں قائم ہوا تھا جب 2365 امریکنز نے شہریت ترک کی تھی.رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے دوران دیگر ایشوز کے علاوہ اب امریکہ میں رہنا بھی بعض افراد کے لئے ایک بڑا ایشو بنتا جارہا ہے.امریکنز کو شہریت ترک کرنے کے لئے حکومت کو 2350 ڈالرز فیس کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے.بیرون ملک رہائش پذیر امریکن شہریوں کو متعلقہ ملک میں قائم ایمبیسیوں اور قونصل خانوں میں ذاتی طور پر پیش ہونا پڑتا ہے.انٹرنل ریوینیو سروس ( IRS) کے مطابق ہر تین ماہ بعد امریکی حکومت کو شہریت سے دستبردارہونے والوں کی فہرست جاری کرنی پڑتی ہے.جس کے مطابق اس سال جنوری سے مارچ تک تین ماہ کے دوران ریکارڈ 2910 افراد نے شہریت ترک کی تھی.

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے