ہفتہ 14 ذوالحجہ 1442ﻫ - 24 جولائی 2021

کورونا وائرس کی صورتحال خصوصاً ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ٹیچنگ ہسپتال اور مفتی محمود ٹیچنگ ہسپتال (ایم ٹی آئی) کی کارکردگی سے متعلق منعقدہ اجلاس

خیبر پختونخواہ، ڈیرہ اسماعیل خان، کمشنر ڈیرہ محمد جاوید مروت نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی صورتحال کو سنبھالنے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ اداروں کی فعالیت بالخصوص ڈی ایچ کیو ہسپتال اور مفتی محمود ہسپتال میں صحت سے متعلق سہولیات جیسے آئی سی یو، ڈائلیسز اور نیورالوجی یونٹ کا قیام جلد از جلد یقینی بنایا جائے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار اپنے دفتر میں کورونا وائرس کی صورتحال خصوصاً ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ٹیچنگ ہسپتال اور مفتی محمود ٹیچنگ ہسپتال (ایم ٹی آئی) کی کارکردگی سے متعلق منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں سٹیشن کمانڈر بریگیڈیر شمریز خان، ڈپٹی کمشنر ڈیرہ محمد عمیر، ڈین گومل میڈیکل کالج ڈاکٹر ارشد علی، ہسپتال ڈائریکٹر ڈی ایچ کیو ڈاکٹر فرخ جمیل، ہسپتال ڈائریکٹر مفتی محمود ہسپتال ڈاکٹر عمر شاہ، اسسٹنٹ کمشنر ریوینیو شیخ جمیل اور ایکسین سی اینڈ ڈبلیو شاہد بھی موجود تھے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر نے بتایا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ 115ملین روپے کی گرانٹ موصول ہو چکی ہے اور اس میں سے کورونا کیخلاف ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی اقدامات اور دونوں ہسپتالوں کی بنیادوں ضروریات مہیا کرنے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاہم انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اداروں کو مضبوط بنانے اور مستقل سہولیات بہتر بنانے پر توجہ دی جائے۔فرنٹ لائن پر لڑنے والے محکمہ صحت کے عملے بالخصوص ڈاکٹرز اور پیرامیڈکس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں صوبے کے سب سے بڑے قرنطینہ سنٹر کے قیام اسکی دیکھ بھال اور اسکے بعد دونوں ہسپتالوں میں مقامی مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج معالجے کیلئے جو اقدامات کیے گئے ہیں وہ قابل تعریف ہیں جسے ہر سطح پر سراہا گیا ہے۔ انہوں نے خصوصی طور پر ہدایت کی کہ آئی سی یو، نیورالوجی اور یورالوجی کے یونٹس بہتر بنانے کیلئے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں اور ایک ماہ کے اندر اندر تینوں سہولیات بہترین انداز میں مہیا ہونے چاہیں تاکہ ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو فخریہ طور پر دکھا سکیں کہ ہمیں جو کچھ ملا ہے اسکا بہترین اور شفاف مصرف کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اس تاثر کو زائل کرنا ہے کہ یہاں سے ہر مریض کو بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں ریفر کر دیا جاتا ہے انشاء اللہ ڈیرہ کے دونوں ہسپتالوں میں موجودہ کام مکمل ہونے کے بعد اس وقت تک کسی کو دوسرے شہر کے ہسپتال ریفر نہیں کیا جائیگا جب تک صحیح معنوں میں اشد ضروری نہ ہو۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سٹیشن کمانڈر بریگیڈیئر شمریز نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ صحت کا عملہ استعداد کار بڑھانے پر توجہ دے۔ اس موقع پر ڈین گومل میڈیکل کالج ڈاکٹر ارشد علی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دو آئسولیشن وارڈز جس میں سے ایک 34بیڈز اور دوسرا20بیڈز پر مشتمل ہے مکمل فعال ہیں جسمیں 24گھنٹے ڈاکٹرز موجود ہوتے ہیں۔ اسی طرح ڈی ایچ کیو میں خصوصی او پی ڈی کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کیلئے بنائی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بشمول ڈاکٹرز تمام عملے کو پی پی ایز فراہم کی جا رہی ہیں۔ ڈیرہ میں پشاور کے بعد دوسری بڑی پی سی آر ٹسٹنگ لیبارٹری قائم کی گئی ہے۔ اس موقع پر کمشنر ڈیرہ نے صوبائی حکومت، پی ڈی ایم اے اور دوسرے اداروں کی طرف سے فراہم کی گئی امداد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس کی بدولت ہمیں حالات کا مقابلہ کرنے میں بڑی آسانی ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ڈیرہ کی عوام کی بہتری اور فلاح کیلئے ان سے دوبارہ بھی رجوع کرنے سے گریز نہیں کریں گے لیکن اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ فراہم کی گئی امداد کا صاف شفاف اور بہترین مصرف یقینی بنایا گیا ہو، انہوں نے ہدایت کی کہ تمام موصول ہونیوالی امداد اور اسکے استعمال کا تفصیلی ریکارڈ مرتب کر کے فورم کو فوری آگاہ کیا جائے۔

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے