پیر 13 صفر 1443ﻫ - 20 ستمبر 2021

آکسفورڈ کی تیار کردہ ویکسئین کےانسانوں پر تجربات:امریکی ماہرین پرامید

نیویارک( خصوصی رپورٹ)کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئےآکسفورڈ یونیورسٹی کی تیار کردہ ویکسئین کے بندروں میں کامیاب اثرات ظاہر ہونے کے بعد سائنسدان انسانوں کی ویکسئین میں کامیابی کے حوالے سے پُرامید ہے. امریکی ریاست مونٹانا میں چھوٹی دم کے سرمئی مائل بندروں پر ویکسئین کے تجربات کئے گیے جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے اور ویکسئین کی وجہ سے بندر کے مدافعاتی نظام ( Immune System) میں کورونا سے لڑنے کی قوت دیکھی گئی.نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ( NIH)مونٹانا کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جان لاپُوک نے کہاکہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے موثر ویکسئین کے لئے کوششیں جاری ہیں.مگراب حوصلہ افزا بات سامنے آرہی ہے کہ ھم خاطر خواہ ویکسئین کی تیاری کے قریب پہنچ چکے ہیں.جس کے انسانوں اور بندروں پر تجربات کیے جارہے ہیں.انہوں نے کہا Rhesus نسل کے چھے بندروں پر ویکسئین کو ٹیسٹ کیاجارہا ہے.جان لوپاک نے کہا کہ جن بندروں کو ویکسئین دی گئی انہوں نے کورونا وائرس کے خلاف دفاعی اینٹی باڈیز پیدا کرلی.جو بات سائنسدانوں کے لیے زیادہ قابل اطمینان رہی کہ جب بندر کورونا وائرس کا شکار ہوئے تو کچھ بندر جنہیں ویکسین نہیں دی گئی تھی ان میں نمونیہ کے آثار پیدا ہوئے یہ Covid-19 میں کی علامت سمجھی جاتی ہے.مگر جن بندروں کو ویکسئین دی گئی ان میں مدافعاتی قوت پیدا ہوئی.وہ ن نمونیہ کا شکار ہوئے نہ وہ کروناوائرس میں مبتلا ہوئے.وینڈربلٹ یونیورسٹی کی ویکسین ریسرچ ڈائریکٹر کیتھرائن ایڈورڈ نے کہا کہ ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ انسانوں اور جانوروں کو انفیکشن سے بچا سکتا ہے.آکسفورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر برائے ہیومن جینیٹکس ایڈ رائن نے کہا کہ اگر یہ قابل عمل ثابت ہوا تو ویکسئین کی بڑے پیمانے پر تیاری قطعی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا.ایک اور سٹڈی سے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ بندر اور انسانوں کے ڈی این اے 93 فیصد ایک جیسے ہوتے ہیں.تاہم ماہرین اس وقت تک مطمئین نہیں ہونگے جب تک لوگوں کے لئے محفوظ اور موثر ویکسئین مارکیٹ میں نہیں عام استعمال کے لئے دستیاب نہ ہو.

یہ بھی دیکھیں

وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ کا کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق بیان۔ 

وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ کا کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق بیان۔ گزشتہ 24 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے