اتوار 1 جمادی الاول 1443ﻫ - 5 دسمبر 2021

امریکہ میں ڈاک کے ذریعہ ووٹ کی کوششوں کودھچکہ: ٹیکساس سپریم کورٹ کی مخالفت

ہیوسٹن ( خصؤصی رپورٹ)امریکہ کے صدارتی الیکشن کے انعقاد میں اگرچہ ابھی ساڑھے پانچ ماہ باقی ہیں تاہم کورونا وائرس کی وجہ سے قطاروں میں ووٹ ڈالنے کی روایت برقرار نہ رہے اور بزریعہ ڈاک ووٹنگ کا آپشن اختیار کیا جائے. اگرچہ ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا تاہم الیکشن کمیشن مختلف آپشنز پر غور کررہا ہے جس میں ووٹرز کو پرامن اور محفوظ ووٹنگ کے لئے ماحول فراہم کرنا ہے اسی لئے ایسے ووٹرز جو گھروں سے باہر نکل کر قطاروں میں ڈالنے سے گریزاں ہونگے انہیں ڈاک کے زریعے ووٹ کاسٹ کرنے کا آپشن دیا جاسکتا ہے تاہم ٹیکساس سپریم کورٹ نے ڈاک کے ذریعے بیلٹ کا منصوبہ مسترد کردیا ہے.ڈلاس مارننگ نیوز کے مطابق ٹیکساس سپریم کورٹ نے ایک ذیلی عدالت کا وہ فیصلہ کالعدم قرار دیدیا ہے جس میں کورونا کے خطرے کے باعث باہر جاکر ووٹ ڈالنے سے خوفزدہ لوگوں کے لیے بذریعہ ڈاک ووٹ کے آپشن کی اجازت دی گئی تھی. ٹیکساس کے ریپبلیکن اٹارنی جنرل کین پیکسٹن نے ڈاک کے ذریعہ بیلٹ کے منصوبے کی روک تھام کے لئے ہراول دستہ کا کردار ادا کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں حکم امتناعی( Stay Order) کے لئے پٹیشن دائر کردی.سپریم کورٹ نے حکم جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ کین پیکسٹن کی اپیل کی سماعت بدھ 21 مئی کو ہوگی کے لئے.ریاستی اٹارنی جنرل نے عدالتی فیصلہ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی سب سے بڑی عدالت نے ووٹنگ فراڈ کی تحقیقات کے لئے انکے آفس کے اقدام کی بھی توثیق کردی ہے.ان کی اپیل کی سماعت 21 مئی سے ھوگی.ٹیکساس کے قانون کے تحت 65 سال سے زائد عمر کے افراد کے ساتھ معذور، فوجی خدمات دینے والے اور ریاست سے باہر گئے افراد میل کے ذریعے حق رائے دہی اپنا سکتے ہیں.واضح رہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ ڈاک کے ذریعہ ووٹنگ ( Vote by Mail)کے حق میں بلکل نہیں ہیں.

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے