پیر 30 شعبان 1442ﻫ - 12 اپریل 2021

سپریم کورٹ میں کورونا وائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت، کورونا کے مریض کا سرکاری لیب سے ٹیسٹ مثبت اور پرائیویٹ سے منفی آتا ہے، چیف جسٹس ریمارکس

اسلام آباد، چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا5 رکنی لارجر بنچ کرونا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کر رہا ہے، اس موقع پر اٹارنی جنرل خالد جاوید خان اور چیئرمین این ڈی ایم اے عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

اٹارنی جنرل  نے کہا کہ کورونا سے متعلق اخراجات پر وضاحت کے لیے چیئرمین این ڈی ایم اے عدالت میں موجود ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہماری تشویش اخراجات سے متعلق نہیں ہے، ہماری تشویش سروسز کے معیار پر ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ کورونا کے مشتبہ مریض کا سرکاری لیب سے ٹیسٹ مثبت اور پرائیویٹ سے منفی آتا ہے، سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے ملازمین کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، ہمارے ملازمین کاٹیسٹ سرکاری لیب سے مثبت اور نجی سے منفی آیا، لاہور میں ایک شخص رو رہا تھا کہ اس کی بیوی کو کورونا نہیں لیکن ڈاکٹر چھوڑ نہیں رہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ قرنطینہ سنٹرز میں واش رومز صاف نہیں ہوتے، پانی نہیں ہوتا، قرنطینہ سنٹرز میں 10،10 لوگ ایک ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں، سوشل میڈیا پر قرنطینہ سنٹرز کی حالت زار کی ویڈیوزچل رہی ہیں، قرنطینہ سنٹرز کے مشتبہ مریض ویڈیوز میں تارکین وطن کو کہہ رہے ہیں کہ پاکستان نہ آئیں، ہم بہت غریب ملک ہیں، ہماری معیشت کا شمار افغانستان، یمن اور صومالیہ سے کیا جاتا ہے تاہم ہم پیسے سے کھیل رہے ہیں اور لوگوں کا احساس نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے