منگل 21 صفر 1443ﻫ - 28 ستمبر 2021

کورونا وائرس امریکہ کے 67 ہزار سے زائد قیدیوں کے لئے لاٹری ثابت

نیوریاک ( رپورٹ :ایم آر فرخ)امریکی عوام کو ان دنوں روزانہ ایسی دل شکن خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ محض کاروبار کھولنے پر لوگوں کو گرفتار کیا جارہا ہے حالانکہ ایسے کاروبار بھی ہیں جن میں زیادہ لوگوں کی آمدورفت نہیں ہوتی مگر دوسری طرف کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا جواز پیش کرکے ہزاروں کی تعداد میں مجرموں کو رہا کیا جاچکا ہے جن میں سنگین جرائم میں ملوث مجرمان بھی شامل ہیں.بڑی کم تعداد میں امریکنز اس حقیقت سے آگاہ ہیں مگر یہ سچ ہے کہ امریکہ بھر کی جیلوں سے 67 ہزار سے زائد مجرموں کو کورونا کے پیش نظر رہا کیا جاچکا ہے جبکہ دوسری طرف معاشی بدحالی کا شکار چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والوں سے جیلیں آباد کی جارہی ہیں.یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کی 50 ریاستوں سے اس قدر بڑی تعداد میں قیدیوں کو کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے گیا ہے.43 ہزار سے زیادہ مجرموں کو جیلوں سے جبکہ 24356 کو Prisons سے رہا گیا ہے. واضح رہے کہ جیلوں میں ایسے مجرموں کو رکھا جاتا ہے جن کے ٹرائل چل رہے ہیں یا پھر انہیں معمولی جرائم میں سزا ملی ہو جبکہ Prisons میں سنگین جرائم میں سزاپانے والوں کو رکھا جاتا ہے.رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے قیدیوں کے اموات کے خوف سے یہ اقدام نہیں کیا گیا کیونکہ جیلوں میں قید 22 لاکھ سے زائد قیدیوں میں کورونا سے چند سو ہی ہلاک ہوئے ہیں. جو مجموعی آبادی کے مقابلہ میں بہت کم ہے.بیشتر قیدیوں کو بیماری کی علامات کے بغیر رہا کیا گیا جن کا immune system یعنی مدافعتی نظام بہترین بتایا جاتا ہے.اس قدر بڑی تعداد میں سزا یافتہ مجرموں کو رہا کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی جن میں سے بڑی تعداد میں نوجوان اور صحتمند ہیں.رپورٹ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ وائرس کے خاتمے یا کمی کے بعد ان مجرموں کی دوبارہ رہائی آسان نہیں ہوگی.بیورو آف جسٹس کی 2018 کی ایک رپورٹ میں شامل اعداد و شمار کے مطابق وفاقی اور ریاستی جیلوں میں مقید افراد کی شرح 1996 کے بعد سے بہت کم ہوگئی تھی.گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران اس کمی کی شرح مزید بڑھی ہے کیونکہ کئی ریاستوں میں جیلوں سے رہائی کے حوالے سے پالیسیاں قیدیوں کے کے حق میں ہیں.افریقی امریکنز کو بڑی تعداد میں قید کرنے کی عام شکایت کے باوجود دس سالوں ( 2008-2018) کے عرصہ میں قیدیوں کی تعداد میں مجموعی طور پر 28 فیصد کمی ہوئی ہے. ہوائی جہاں کورونا وائرس سے محض 17 اموات ہوئیں اور جیلوں میں COVID-19کا ایک بھی تصدیق شدہ کیس نہیں ہے ریاست کے 38 فیصد مجرموں کو رہائی مل چکی ہے.جن میں ایک ایسا مجرم بھی شامل ہے جسے محض دو ہفتے قبل قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا.دوسری جانب ریاست میں لاک ڈاؤن کے سخت قوانین ہیں جہاں ایک مبینہ قاتل تو رہائی پا جاتا ہے مگر ایک نوجوان کو ساحل سمندر پر اپنی تصویر پوسٹ کرنے پر جیل میں ڈال دیا گیا.

یہ بھی دیکھیں

وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ کا کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق بیان۔ 

وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ کا کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق بیان۔ گزشتہ 24 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے