منگل 6 شوال 1442ﻫ - 18 مئی 2021

صدر ٹرمپ کا سوشل میڈیا کے خلاف ایگزیکٹو آرڈر: ٹوئیٹر فیصلہ عدالت میں چیلنج کرے گا

واشنگٹن( خصوصی رپورٹ)صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا کو بند کرنے کی جو دھمکی دی تھی اسکے بجائے انہوں نے ٹوئیٹر، فیس بک سمیت سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن پلیٹ فارم کو وفاق کی جانب سے حاصل وسیع تر قانونی تحفظ کو محدود کرنے کے لئے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردئے ہیں تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے قانونی تحفظ پر قدغن کے اقدام کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی جانب سے فوری طور پر عدالت میں چیلنج کئے جانے کا امکان ہے.صدر ٹرمپ نے یہ قدم ٹوئیٹر کی جانب سے انکی پوسٹوں پر فیکٹ چیکنگ نوٹس لگانے کے اقدام کے ردعمل میں اٹھایا ہے.صدارتی حکم کے ذریعے وفاقی حکومت کے لیے سوشل میڈیا کمپنیوں کو ذمہ دار قرار دینا آسان بنانا اصل مقصد ہے.اگر وفاقی حکام یہ محسوس کریں کہ سوشل میڈیا غیر منصفانہ طریقے سے صارفین کو اظہار رائے کے حق سے روک رہا ہے.اوول آفس میں ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرنے کی ایک مختصر سی تقریب میں ریپبلیکن صدر ٹرمپ نے ٹوئیٹر پر ایڈیٹر کے طور پر اقدام کا الزام لگایا اور اپنی پوسٹوں پر فیکٹ چیک لگانے کے ٹوئیٹر فیصلہ کو “سیاسی سرگرمی” قرار دیا ہے.صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ محسوس کرتے کہ ٹوئیٹر کا رویہ انکے ساتھ منصفانہ ہے تو وہ اپنا ٹوئیٹر اکاؤنٹ ڈیلیٹ کردیتے.تقریب کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم یہاں اظہار رائے کی آزادی کے دفاع کے لئے اکھٹے ہوئے ہیں.صدر ٹرمپ نے اس موقع پر انتہائی جارحانہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر انکے وکلاء ٹوئیٹر کو قانونی طور پر بند کرنے کا طریقہ ڈھونڈ لیں تو وہ فورًا ایسا کر گزریں گے.امریکی صدر کے ٹوئیٹر پر 80 ملین فالورز ہیں وہ باقاعدگی سے ٹوئیٹر کا استعمال کرتے ہیں. 2016 کے صدارتی الیکشن میں انکی کامیابی سوشل میڈیا کی مرہون منت سمجھی جاتی ہے. وہ سی این این، واشنگٹن پوسٹ، نیویارک ٹائمز سمیت مین سٹریم امریکی میڈیا کو جعلی اور جھوٹا قرار دیتے ہیں اور اکثر وائیٹ ہاؤس میں پریس بریفنگز کے دوران صحافیوں سے بری طرح الجھ جاتے ہیں.انکی تضحیک کرتے ہیں اور کئی بار وہ پریس کانفرنس ادھوری چھوڑ کر ناراض “ محبوبہ”کی طرح روٹھ کر جاچکے ہیں. صدر ٹرمپ لاتعداد مرتبہ سوشل میڈیا کو ریئل میڈیا سے بہتر قرار دے چکے ہیں مگر اب خود سوشل میڈیا کے خلاف ہوگئے ہیں اور کل تک سوشل میڈیا کو سر آنکھوں پر بٹھانے والے صدر ٹرمپ اسے بند کرنے پر تلے ہوئے ہیں.قبل ازیں سوشل میڈیا کے حوالے دے صدر ٹرمپ کے اظہار خیال اور اب ایگزیکٹو آرڈر کے اجرا سے ٹوئیٹر اور فیس بک کے شئیرز بری طرح گرگئے ہیں.ایگزیکٹو آرڈر کے اجراء کے فوری بعد ٹوئیٹر نے اپنی ایک پوسٹ میں ایگزیکٹو آرڈر کوایک تاریخ ساز فیصلہ کے خلاف قدامت پسندانہ اور سیاست زدہ قرار دیاہے.اور اسکے ذریعے آن لائن اظہار رائے پر حد بندی قائم کی جائے گی جو مستقبل میں سوشل میڈیا اورانٹرنیٹ کی بقا کے لئے خطرناک ہوسکتا ہے. تاریخ ساز ایکٹ سیکشن 230 کے تحت 1996 کمیونیکشنز ڈیسینسی ایکٹ کہلاتا ہے جو سوشل میڈیا اور آن لائن میڈیا کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لئے نافذ کیا گیا تھا.اسے 1996 میں کانگریس نے منظور کیا تھا.گوگل نے بھی ایگزیکٹو آرڈر کی مذمت کرتے ہوئے اظہار رائے کے خلاف ظالمانہ کارروائی قرار دیا ہے.اس حکم نامہ کو ٹرمپ انتظامیہ کا سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف سب سے زیادہ جارحانہ اقدام قرار دیا جارہا ہے.صدر ٹرمپ گزشتہ چند سالوں سے سوشل میڈیا کے خلاف کارروائی کی دھمکیاں دیتے آرہے ہیں. وہ اور متعدد کنزرویٹو اراکین کانگریس سوشل میڈیا کو اپنے سیاسی نکتہ نظر کے خلاف منظم تعصب تصور کرتے ہیں.ماہرین کا کہناہے کہ آرڈر کو عدالت میں چیلنج کئے جانے کا امکان ہے.اسی دوران فیس بک کے مالک مارک زکربرگ نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی اس بات پر قائم ہیں فیس بک یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو “سچ کا ثالث”( Arbiters Of Truth) نہیں بننا چاہیے

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے