پیر 30 شعبان 1442ﻫ - 12 اپریل 2021

پاکستان ریلوے نے ملک میں کرونا وائرس کنٹرول ہونے تک 142 میں سے 40 ٹرینیں چلانے کا فیصلہ کیاہے

پاکستان ریلوے نے ملک میں کرونا وائرس کنٹرول ہونے تک 142 میں سے 40 ٹرینیں چلانے کا فیصلہ کیاہے۔ جن میں پندرہ اپ اور پندرہ ڈاﺅن کی ٹرینیں پہلے ہی چل رہی ہیںاور پانچ اپ اورپانچ ڈاﺅن کی مزید ٹرینیں چلانے کا فیصلہ کیاہے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے ریلوے ہیڈکوارٹرزآفس لاہور میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ نئی چلنے والی ٹرینوں میں سرسید ایکسپریس، شالیمارایکسپریس، بہاﺅالدین زکریا ایکسپریس،کراچی ایکسپریس اور لاہور سے راولپنڈی کے لیے رات 12بجکر30منٹ پر چلنے والی ریل کار شامل ہے۔وزیر ریلوے نے کہا کہ بہاولپور ریلوے اسٹیشن کا افتتاح اسی مہینے ہوگااس حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے بات ہوگئی ہے میں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو درخواست کی ہے کہ وہ لاہور کو تین دن کی بجائے دو دن بند کریں تاکہ چھوٹے تاجروں کو سہولت مل سکے۔ انہوںنے کہا کہ میں تمام صحافی بھائیوں کا شکرگزار ہوں جنہوں نے امتحان کی اس گھڑی میں ریلوے کا ساتھ دیاجس طرح ہم نے ایس او پیز پر عملدرآمد کیامیڈیا نے اس کو خوب سراہا۔ اس کے علاوہ ہم چارہ صوبوں کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے ہم سے تعاون کیاکیونکہ ہم پر لازم کیاگیاکہ ہم 60فیصد ایکوپنسی سے زیادہ نہیں چلاسکتے ۔ اگر ایکوپنسی کے حساب سے نہیں چلائیں گے تو ریلوے کی کمٹمنٹ متاثر ہوگی اس ایکوپنسی کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ہم نے پانچ مزید ٹرینیں چلانے کا فیصلہ کیاہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے آن لائن سسٹم پر زیادہ لوڈ کی وجہ سے پریکس کو بھی ٹکٹوں کی ریزویشن کی اجازت دیدی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پولیس کو ہدایت کی ہے کہ بکنگ کے لیے آنے والے لوگوں کے درمیان سماجی فاصلے کو یقینی بنائیں۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ میں پوری قوم کے سامنے وعدہ کرتا ہوں کہ ہم ہرصورت ایس اوپیز پر عمل کریں گے کسی کو بھی ایس او پیز پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے ۔ ہم پہلے کونسانفع میں ہیں ہم تو پہلے ہی 30سے 32 ارب روپے خسارے میں ہیں ہم نے عوام کی سہولت کے لیے اُن کو اُن کے پیاروں سے ملانے کے لیے چاروں صوبوں کو اکٹھاکیاہے اور کسی بڑے اسٹیشن کو دن میں کسی کو رات میں سفرکرنے کی سہولت دی ہے۔ ہم نے ٹرین آپریشن کے حوالے سے اُن بڑے اسٹیشنوں کو کھولا ہے جہاں میڈیکل ٹیسٹ کا انتظام ہے اگرچین سے حفاظتی آلات آگئے تو باقی اسٹیشنوں پر بھی کام کریں گے۔ آج میں نے ریلوے ہیڈکوارٹرز آفس میں بھی میڈیکل ٹیسٹنگ کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا بھی شکرگزار ہوں جنہوں نے ہمیں ٹرین آپریشن کی اجازت دی ہے۔ ایم ایل ون کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ پلاننگ منسٹر اسد عمر نے ایم ایل ون کا پی سی ون اور ایکنک رپورٹ کابھی فیصلہ کرلیاہے۔مشیرِ خزانہ شیخ حفیظ اور اُن کی ٹیم اس کی خودمختار گارنٹی بھی دے گی یہ ایم ایل ون کی بہت بڑی رکاوٹ تھی جو دور ہوگئی ہے۔ ایم ایل ون سے ٹریک کا مسئلہ حل ہوجائے گا یہاں سے جو ٹریک نکلے گا وہ برانچ لائنوں میں کام آئے گا اس سے ہماری برانچ لائنیں بھی ٹھیک ہوجائیں گی اور مین لائن بھی ٹھیک ہوجائے گی۔ریلوے سے کسی ملازم کو نہیں نکالیں گے۔ ایم ایل ون کے تحت ایک لاکھ لوگوں کو نوکریاں دی جائیں گی۔ ٹی ایل اے کے تمام ملازمین کو کنفرم کیاجائے گا۔ ریلو ے کو تنخواہ اور پنشن کی مد میں ہر ماہ ساڑھے پانچ ارب چاہیے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے نے پچھلے دو سال میں پانچ روپے کی بھی خریداری نہیں کی۔ کروونا میں ہم نے 1056 ویگنوں کو ٹھیک کیا 40 ٹرینیں چلائیں۔ایم ایل ون ریلوے کی زندگی ہے ایم ایل ون کے بغیر ریلوے حادثات سے بچنا بہت مشکل ہے ۔ چین پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین سے ہماری دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے اگر کوئی وقت آیا تو یہ قوم چین کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے