ہفتہ 22 ربیع الثانی 1443ﻫ - 27 نومبر 2021

ٹوبيکو مصنوعات پر سرچارج سے حکومت کی آمدن ميں اضافہ ہو گا

ٹوبيکو مصنوعات پر سرچارج سے حکومت کی آمدن ميں اضافہ ہو گا
ہيومن ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے سی ای اواظہر سليم نے ایک آن لائن ميڈیا سيشن ميں کہا کہ تمباکو کے استعمال سے پاکستان ميں سالانہ 166000 اموات واقع ہوتی ہيں۔ تمباکو کے استعمال سے ایک ملک کے معاشی اخراجات پر نمایاں اثر پڑتا ہے اور ساتھ ہی تمباکو سے متعلقہ بيماریوں کے علاج کے لئے صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات اور افرادی قوت کی پيداواری صلاحيت ختم ہو جاتی ہے۔ اظہر سليم نے کہا کہ پاکستان ميں سگریٹ نوشی کی سالانہ معاشی لاگت تقریبا 143 ارب روپے ہے۔ تمباکو پر قابو پانے کے اقدامات ميں تمباکو کی مصنوعات پر ٹيکس ميں اضافہ سب سے موثر قدم رہا ہے۔ پاکستان ميں تمباکو کی مصنوعات پر ٹيکس کے سٹرکچر کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ٹيکس کے اسٹرکچر ميں تبدیلی کے ذریعے تمباکو کی صنعت لوگوں کی جان پر کھيلتے ہوئے خود کو ٹيکسوں سے بچاتی ہے۔ مالی سال 2021-2020 کيلئے تمباکو کی مصنوعات پر ٹيکس کو حتمی شکل دینے کے دوران حکومت کو مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح کو ذہن ميں رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ تمباکو کی مصنوعات پر ایف ای ڈی ميں 20 روپے کا ہر سليب ميں اضافہ کيا جائے۔
سپارک کےایگزیکٹيو ڈائریکٹر جناب سجادچيمہ نے بتایا کہ تمباکو کی صنعت اپنی ہيراپھيری ہتھکنڈوں کے ذریعے نوجوانوں کو نشان بنا رہی ہے۔ تمباکو کے استعمال کی لعنت سے اپنے نوجوانوں کو بچانے کے ليے حکومت پر لازم ہے کہ وہ زیادہ ٹيکس کے ذریعہ تمباکو کی مصنوعات کی قيمتوں ميں اضافہ کریں۔
آغا خان یونيورسٹی کے پلمانولوجسٹ ڈاکٹر جاوید خان نے بتایا کہ کویڈ 19 کی وجہ سے صحت عامہ کے محکموں اور ہسپتالوں پر بيماریوں کے بوجھ ميں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمباکو کا استعمال پاکستان ميں غير مواصلاتی بيماریوں کی بڑی وجہ ہے۔ سگریٹ پينے والے افراد کے پھيپھڑوں کی صحت پہلے ہی خراب ہوتی ہے اور اس طرح کو یڈ 19 کے ہونے کے چانسز بڑھ جاتے ہيں اور اس وبائی مرض کی وجہ سے صحت عامہ پر بوجھ بڑھ جاتے ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپيل کی کہ وہ اپنے عوام کی صحت کو مد نظر رکھتے ہوئے تمباکو کی مصنوعات پر ٹيکس بڑھائيں۔
جناب مرتضی سولنگی سينئر صحافی اور سابق ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان نے کہا کہ ہم سب تمباکو اورشوگر کی صنعت کے بارے ميں جانتے ہيں کہ وہ کس طرح ایک حقيقی مافيا کی طرح کام کرتے ہيں اور لوگوں کی جانوں کے تحفظ کے لئے کوئی عمل درآمد نہيں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اور سيٹھ ميڈیا دونوں ہی مافيا کے مفادات کو پھيلانے ميں معاون ہيں اور افسوس کی بات ہے کہ وہ پاليسی سازوں اور بيوروکریسی کے ساتھ عوام کی جانوں کے تحفظ کے بجائے مافيا کی خدمات کے لئے کام کر رہے ہيں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آگيا ہے کہ سول سوسائٹی ، سوشل ميڈیا، نيا ڈیجيٹل ميڈیا اور باشعور دانشور مافيا کو شکست دینے کے ليے ایک عمدہ آرکيسٹرا کے ٹکڑوں کی طرح مل کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری آنے والی نسلوں کی زندگياں سنگين خطرے ميں ہے اور اس پرناقابل معافی جرم کے مترادف ہيں۔
پناہ کے جنرل سيکرٹری ثناءاالله گھمن نے حکومت پر زور دیا کہ تمباکو کنٹرول کی کوششوں ميں ضروری اقدام اٹھائے اور تمباکو کی ہرقسم کی مصنوعات پر ٹيکس سرچارج کو نافذ کرے۔ یہ بڑھتی ہوئی آمدنی اور بيماریوں کے بوجھ ميں کمی کی صورت ميں ملکی معيشت اور صحت دونوں کے ليے جيت کی صورت حال ہے۔

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے