اتوار 15 ذوالحجہ 1442ﻫ - 25 جولائی 2021

صدر ٹرمپ نے مظاہروں سے متاثرہ شہروں میں فوج کی تعیناتی کا حکم دیدیا: گورنرز، میئرز پر صورتحال میں ناکامی کا الزام

واشنگٹن (ایم آر فرخ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جن پر انکے مخالفین الزام لگاتے ہیں کہ منی سوٹا میں ایک سیاہ فام نوجوان کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد انکے متعدد متنازعہ ٹوئیٹس کی وجہ سے مظاہرے میں تشدد کا عنصر بڑھا ہے 1807کے ایک قانون کا استعمال کرتے ہوئے غیر معمولی پرتشدد مظاہروں سے متاثر ریاستوں میں فوج بھیجنے کا حکم جاری کیا ہے.وائیٹ ہاؤس روز گارڈن میں ایک ہنگامی اور غیر اعلانیہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خود کو امن و امان کا صدر ( President Of Law and Orde) قرار دیا ہے.صدر کے خطاب کے دوران وائیٹ ہاؤس کے قریب منعقدہ مظاہرے کے شرکاء کی بلند و بالا آوازیں، نعرے گونج رہے تھے جس کی وجہ سے انکی پریس کانفرنس میں خلل بھی پڑا.انہوں نے کہا کہ ہم پرامن مظاہروں کو مشتعل مظاہرین کے ہاتھوں سبوتاژ ہونے کی اجازت نہیں دیں گے.صدر ٹرمپ نے اینٹی فاشسٹ گروپ ANTIFA اور دیگر فاشسٹ گروپوں کو پرتشدد مظاہروں کا ذمہ دار قرار دیا.انہوں نے کہا کہ ملک میں بدامنی، لوٹ مار اور توڑ پھوڑ روکنے کے لئے وہ تمام سویلین اور فوجی وسائل بروئے کار لائیں گے اور ساتھ ہی Insurrection Act 1807 کے تحت امریکی فوج کو ریاستوں میں تعینات کرنے کا اعلان بھی کردیا.مذکورہ ایکٹ امریکی صدر کو اختیار دیتا ہے کہ وہ ملک میں کہیں کسی بھی جگہ فوج کی تعیناتی کا حکم دے سکتا ہے.آخری بار اس ایکٹ کا نفاذ 1992 میں اسوقت کے صدر جارج بش (سینئر)نے لاس اینجلس میں کیا تھا جب ایک سیاہ فام نوجوان روڈنی کنگ کے مبینہ قاتل چار سفید فام پولیس افسروں کو الزامات سے بری کردیا گیا تھا.1992 میں ہونے والے ان مظاہروں میں 65 کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے تھے. صدر ٹرمپ نے اب تک جارج فلائیڈ کے قتل پر کچھ خاص ردعمل اور زیادہ سخت انداز میں مذمت کا اظہار نہیں کیا ہے اس کے بجائے وہ حسب معمول مختلف ریاستوں کے گورنروں اور مئیرز کو تنقید کا نشانہ بنانے میں مصروف ہیں ان کا کہنا ہے کہ گورنرز کمزور ثابت ہوئے ہیں انہیں صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لئے بھرپور اقدامات کرنے چاہئیے تھے مگر وہ ایسا نہیں کرپا رہے ہیں.امریکی صدر نے لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کے مناظر اور واقعات کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور کسی بھی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی. پریس کانفرنس کے بعد صدر ٹرمپ وائیٹ ہاؤس سے نکلتے ہوئے قریب واقع سینٹ جانز ایپیسکول چرچ کے سامنے کچھ لمحہ کے لئے رکے اور بائبل کا نسخہ لہراتے ہوئے وہاں سے گزرے.مظاہرے کے باعث مذکورہ چرچ کو جزوی طور پر نقصان بھی پہنچا تھا.

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے