جمعرات 15 ربیع الاول 1443ﻫ - 21 اکتوبر 2021

امریکی ریاست نیبراسکا میں مظاہرے کے دوران بار کے مالک کے ہاتھوں سیاہ فام نوجوان کا قتل : مبینہ قاتل بری الزمہ

اوماہا(نیوز ڈیسک)امریکی ریاست نیبراسکا میں ایک بار کے مالک کو جارج فلائیڈ کے قتل کے خلاف مظاہرے کے دوران فائرنگ کرکے ایک نوجوان کو ہلاک کرنے کے باوجود کلین چٹ دیدی گئی ہے. حکام کا کہنا ہے کہ او ماہا میں واقع Hive بار کے مالک جیک گارڈنر نے اپنے دفاع میں گولی چلائی تھی جو ایک 22 سالہ سیاہ فام نوجوان جیمز شرلوک کو جالگی جس سے اسکی موت واقع ھوگئی.ڈگلس کاؤنٹی ( نیبراسکا ) کے اٹارنی ڈان کلائین کا کہنا ہے کہ جیک گارڈنر کے مطابق جیمز شرلوک مظاہرے کے دوران اسکے بار کے باہر موجود تھا اور اچانک اسکی پشت پر سوار ہوکر اسکی گردن دبانے لگا اسنے وارننگ کے طور پر دو ہوائی فائر بھی کئے.کاؤنٹی اٹارنی کا کہنا ہے کہ مسٹر گارڈنر کے مطابق اسنے جو کچھ کیا اپنے دفاع میں کیا اور ھمارے پاس اسکو قصوروار ٹھہرانے کی کوئی اور وجہ نہیں.ویڈیو فوٹیجز اور عینی شاہدین بھی جیک گارڈنر کے دعوی کو ثابت کرتے ہیں جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بار کا سفید فام مالک لوگوں کو اپنی جگہ سے جانے کا کہہ رہا ہے. ڈان کلائین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مرنے والا سیاہ فام اور مارنے والا سفید فام ہے تاہم تصادم کے دوران کسی قسم کے نسلی جملوں اور ریمارکس کا تبادلہ نہیں ہوا.

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے