جمعرات 16 صفر 1443ﻫ - 23 ستمبر 2021

منی سوٹا میں جارج فلائیڈ کا نہیں امریکہ کا گلا گھونٹا گیا: جارج بش

واشنگٹن ( نیوز ڈیسک)امریکہ کے سابق صدر جارج ڈبلیو بش(جونئیر) نے کہا کہ وہ اور سابق خاتون اوّل لارا بش امریکہ میں بڑھتی ہوئی نسل پرستی اور ناانصافی سے بہت پریشان ہیں. منی سوٹا میں ایک سیاہ فام نوجوان کے سفید فام پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں وحشیانہ قتل کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جارج فلائیڈ کا نہیں بلکہ امریکہ کا گلا گھونٹ گیا ہے.انہوں نے 25 مئی کے واقعہ پر اب زبان کھولنے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت لیکچر جھاڑنے کا نہیں بلکہ سننے کا ہے.انہوں نے نوجوان سیاہ فام امریکی کا بہیمانہ قتل کرنے والے پولیس افسروں پر سخت تنقید کرتے ہوئے سماجی انصاف کے لئے پُرامن مظاہروں کی تعریف کی.یہ ہماری بدستور ایک دلگداز ناکامی ہے کہ اب بھی متعدد افریقی امریکنز خصوصا” سیاہ فام نوجوانوں کو ان کے اپنے ہی ملک میں ہراساں اور خوفزدہ کیا جاتا ہے.انہوں نے کہا کہ پرامن مظاہرین کو قانون نافذ کرنے والے ذمہ دار اہلکاروں کا تحفظ حاصل ہو تو وہ بہتر مستقبل کے لئے اپنے حق میں پرسکون انداز میں احتجاج کرسکتے ہیں.انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ منظم نسل پرستی کا خاتمہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب انصاف سے محروم استحصال کا شکار افراد کی آواز سنی جائے.انہوں نے امریکہ کو غلامی، نا انصافی اور نسل پرستی سے نکالنے والے امریکی ہیروز کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے تعصب اور نفرت کی جگہ انصاف اور امن کے لئے جدوجہد کی جن میں جان اباراھام،ہیریٹ ٹبمین،فریڈرک ڈگلس اور مارٹن لوتھر کنگ جیسے عظیم رہنما شامل ہیں.جارج بش نے کہا کہ انصاف کی حکمرانی کا انحصار قانونی نظام کی شفافیت اور اسکے جائز ہونے پر ہے.

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے