ہفتہ 5 رمضان 1442ﻫ - 17 اپریل 2021

ٹرمپ کو پے در پے جھٹکے:ری پبلیکبز کے بڑے انکے خلاف ، ووٹ نہ دینے کا اعلان

نیویارک ( رپورٹ : محمد فرخ)صدر ٹرمپ کو اپنوں کو ناراض کرنے کا فن خوب آتا ہے مخالفین کو تو وہ کبھی رام کرہی نہیں پائے نہ کوشش کی مگر 2017 میں حلف برداری کے بعد انکی زیادہ مخالفت غیروں سے زیادہ انکے اپنوں نے کی جس کی فہرست اتنی طویل ہے کہ ماضی میں اس کی شائد ہی کوئی ایسی مثال ہو اور نہ ہی امریکہ میں کوئی ایسا صدر گزرا ہوگا جو اپنوں میں ہے اس قدر بیگانہ ہوچکا ہو. صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے کئی اہم اراکین جن میں سیکریٹری اسٹیٹ یعنی وزیر خارجہ سے لیکر انکی دو تین خوبرو پریس سیکریٹریز شامل ہیں انکے رویوں کی وجہ سے انہیں چھوڑ چکے ہیں جبکہ انکی صفوں میں ان پر تنقید اور انکی پالیسیوں سے اختلافات کرنے والوں کی بھی معقول تعداد ہے. گزشتہ دنوں ٹرمپ انتظامیہ کے سابق وزیر دفاع جم میٹس نے انہیں امریکی تاریخ کا سب سے غیر ذمہ دارانہ صدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ایسا صدر نہیں دیکھا جو قوم کو متحد کرنے بجائے منتشر کررہا ہے. گزشتہ روز امریکہ کے سابق صدر ریپبلیکن جارج بش اور سابق ریپبلیکن صدارتی امیدوار، میسا چوسسسٹس سے ریپبلیکن سینیٹر مِٹ رومینی نے نومبر کے الیکشن میں صدر ٹرمپ کی حمایت نہ کرنے کا اعلان کردیا ہے جبکہ ایک اور سابق صدارتی ریپبلیکن امیدوار اور ایریزونا سے سابق سینیٹر جان میکین کی بیوہ این میکین نے نومبر 2020 الیکشن میں ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کوووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے.صدر ٹرمپ کے مخالفین میں ایک اور بڑے نام کا اضافہ ہوگیا ہے جو کوئی اور نہیں امریکہ کی تاریخ کے پہلے سیاہ فام وزیر خارجہ کولن پاول ہیں جنہوں نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں اور ان کے مبینہ نسل پرست رویہ کےباعث اس سال صدارتی الیکشن میں انکی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئےڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کو ووٹ ڈالنے کا اعلان کردیا ہے.سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے سابق ریپبلیکن وزیر خارجہ کولن پاول نے کہا کہ صدر ٹرمپ ہر بات پہ جھوٹ بولتے ہیں اور کانگریس میں موجودہ ریپبلیکنز میں ان کا احتساب کرنے کی ھمت نہیں ہے.واضح رہے کہ مسٹر پاول نے ماضی میں اس وقت کے صدر جارج بش کے اس جھوٹ کی اقوام متحدہ میں توثیق کی تھی جو جارج بش نے دنیا کے سامنےعراق میں انسانی تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حوالے کہی تھی اور بعد میں کولن پاول نے اعتراف کیا تھا کہ عراق میں WMD سے متعلق امریکہ کی انٹیلیجنس اطلاعات غلط تھیں.گزشتہ انتخابات میں سابق صدر باراک اوبامہ اور سابق ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن کو ووٹ دئیے تھے.کولن پاول نے مذید کہا کہ وہ سیاسی اور سماجی طور سے جو بائیڈن کے قریب ہیں اور گزشتہ 35 سال انکے ساتھ کام رہے ہیں. ریپبلیکنز کے اس قدر بڑی تعداد میں ہیوی ویٹ رہنماؤں کی صدر ٹرمپ کی مخالفت سے تو ان کی ناکامی بظاہر یقینی نظر آتی ہے.تاہم حالیہ نسلی کشیدگی کے ماحول میں صدر ٹرمپ کے لئے وائیٹ ووٹ کا حصول زیادہ آسان نظر آرہا ہے. نیویارک ٹائمز نے تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ گزشتہ انتخاب میں صدر ٹرمپ کو اس وجہ سے ریپبلیکنز کے بڑوں کی حمایت حاصل ہوئی تھی کہ سب پارٹی پالیسی کے تحت چلے تھے مگر اس بار کوئی بھی صدر ٹرمپ سے متفق نظر نہیں آتا اور یہی لگتا ہے کہ پالیسی کی نہیں بلکہ ٹرمپ کی شخصیت کا الیکشن 2020 میں کلیدی کردار ہوگا.

یہ بھی دیکھیں

اسلام آباد :خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پی ٹی آئی رہنماء عثمان ڈار کا پیغام۔ 

اسلام آباد :خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پی ٹی آئی رہنماء عثمان ڈار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے