جمعرات 26 ذوالحجہ 1442ﻫ - 5 اگست 2021

کم از کم 2 ہفتے مکمل لاک ڈاؤن کی ضرورت ہے, ڈبلیو ایچ او کا خط

ڈبلیو ایچ او کا پنجاب حکومت کو خط، کم از کم 2 ہفتے مکمل لاک ڈاؤن کی ضرورت ہے

عالمی ادارہ صحت نے پنجاب میں کرونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اموات پر خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں روزانہ 50 ہزار ٹیسٹ اور کم ازکم 2 ہفتے مکمل لاک ڈاؤن کی ضرورت ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے پنجاب حکومت کو خط لکھا جس میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کرونا کے حوالے سے ضابطہ کار (ایس او پیز) پر سختی سے عمل نہيں ہو رہا۔ پنجاب حکومت کو لکھے گئے خط میں عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ صوبے میں کرونا کے روزانہ 50 ہزار ٹیسٹ ہونے چاہیں اور کم از کم 2 ہفتے کا مکمل لاک ڈاؤن وقت کی ضرورت ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کرونا مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھنا خطرے کی بات ہے، لاک ڈاؤن کے دوران ہی روزانہ ایک ہزار کیسز رپورٹ ہورہے تھے، لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد روازنہ مریضوں کی تعداد 4 ہزار سے اوپر ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ ڈبلیو ایچ او نے پابندی ختم کرنے والے ممالک کے لیے 6 نکاتی شرائط لازمی قرار دی ہیں۔

بیماری کی لوکل ٹرانسمیشن پر کنٹرول ہو۔

صحت کے نظام بہتر ہو کہ جہاں ’طبی نموں کا ٹیسٹ، تشخیص، قرنطینہ اورعلاج‘ فراہم کیا جا سکتا ہو۔

جہاں کیسز سب سے زیادہ تھے اب وہ خطرہ کم ہوچکا ہو۔

اسکولوں، جائے کار اور دیگر اہم مقامات پر حفاظتی اقدامات مکمل ہوں۔

کیسز کے درآمد کا خطرہ سبنھالا جاسکتا ہو۔

کمیونٹی میں لوگ وائرس سے متعلق مکمل آگاہی رکھتی ہو اور اس کے عدم پھیلاؤ میں فعال ہو اور ایک نئے معمول کے تحت زندگی گزارنے میں بااختیار ہو۔

خط میں خبردار کیا گیا کہ اب تک پاکستان نے ان میں سے کسی ایک نقطہ میں پورا نہیں اترتا۔ نمائندہ ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ کہ کیسز کی شرح زیادہ ہے، نگرانی کا نظام کمزور ہے، مریضوں کو طبی سہولت کی فراہمی محدود ہے اور حالات کے مطابق شہریوں کے رویے میں مثبت تبدیلی نہیں آئی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام مذہبی امور

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے