منگل 6 شوال 1442ﻫ - 18 مئی 2021

نیپالی پارلیمنٹ نے نیا نقشہ منظور کرلیا

بھارت کی مخالفت اور ناراضگی کے باوجود نیپالی پارلیمنٹ نے ان علاقوں کو جن پر بھارت اپنا دعوی کرتا ہے شامل کرتے ہوئے نیپال کا نیا سیاسی نقشہ منظور کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق لداخ پر چین سے ہزیمت اٹھانے کے بعد بھارت کو ایک اور محاذ پر زور دار جھٹکا لگ گیا۔ بھارتی سرحد سے متصل تین متنازع علاقے نیپال کے نقشے میں شامل کر لیے گئے۔

نقشے کی تبدیلی کے لیے آئینی ترمیم بل ایوان زیریں میں بحث کے لیے پیش کیا گیا جسے اراکین نے بھاری اکثریت سے منظور کرلیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اپوزیشن سمیت بھارت نواز سیاسی جماعتوں نے بھی بل کی حمایت کی، نیپال کے نئے سیاسی نقشے میں لیپولیکھ، لمپیادھورا اور کالاپانی کو نیپال کی سرحد کے اندر دکھایا گیا ہے۔

دراصل چھ ماہ قبل بھارت نے اپنا نیا سیاسی نقشہ جاری کیا تھا جس میں ریاست جموں و کشمیر کو دو مرکزی علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ کے طور پر دکھایا گیا تھا۔ اس نقشے میں، لمپیادھورا، کالاپانی اور لیپولیکھ کو انڈیا کا حصہ بتایا گیا جبکہ نیپال ایک طویل عرصے سے ان علاقوں کا دعویدار ہے۔

نیپال کا کہنا ہے کہ مہاکالی (شاردا) دریا کا ماخذ دراصل لمپیادھورا ہے جو اس وقت ہندوستان کے اتراکھنڈ کا حصہ ہے۔ انڈیا اس کی تردید کرتا رہا ہے۔ حال ہی میں بھارت نے لیپولیکھ کے راستے مانسوروور جانے والے ایک راستے کا افتتاح کیا جس پر نیپال نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔

اور جراتمندانہ اقدام پر بھارتی حکام کو سانپ سونگھ گیا ہے، بھارتی میڈیا اور سیاستدان اس اقدام پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔یاد ہے کہ چند روز قبل چین نےلداخ ریجن میں بھارت کو عبرت ناک شکست دے کر علاقے کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے