ہفتہ 10 ربیع الاول 1443ﻫ - 16 اکتوبر 2021

وفاقی پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کے ترقیاتی اسکیمات پر کسی قسم کا کام بھی نہیں ہوا،ایوان صنعت و تجارت بلوچستان

کوئٹہ:ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے سینئر نائب صدر بدرالدین کاکڑ نے وفاقی بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزارت خزانہ آئی ایم ایف اور دیگر کے انڈیکیٹرز بتارہے ہیں کہ صنعت و تجارت سمیت ملک میں تمام پیداواری و دیگر شعبہ جات خسارے میں ہیں۔ بلوچستان کے رقبے، غربت کی شرح و دیگر چیلنجز کو مد نظر رکھتے ہوئے اسپیشل پیکج دینا چاہیے تھا

کیونکہ یہاں نہ صرف بارڈرز اور بارٹر تجارت زبوں حالی کا شکار ہے بلکہ وفاقی پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کے ترقیاتی اسکیمات پر کسی قسم کا کام بھی نہیں ہوا۔ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے وفاقی پی ایس ڈی پی میں فنڈز ایلوکیٹ کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہاں عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بجٹ اجلاس کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ بدرالدین کاکڑ کا کہنا تھا کہ وفاقی بجٹ میں 6سو50 ارب روپے ترقیاتی مد میں رکھے گئے ہیں

لیکن اس میں بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں کی خاص وضاحت موجود نہیں ہماری بدقسمتی ہے کہ ہر سال وفاقی بجٹ میں بلوچستان کے لئے ترقیاتی منصوبوں کو تو پی ایس ڈی پی میں شامل کیا جاتا ہے لیکن ان پر عملی کام نہیں ہوتا۔ کوئٹہ چمن شاہراہ کے حوالے سے سابقہ وفاقی پی ایس ڈی پی میں فنڈز ایلوکیٹ کئے گئے تھے

لیکن اس پر کسی قسم کا کوئی کام نہیں ہوسکا۔ بلوچستان میں شاہراہوں کی حالت سب کے سامنے ہیں یہاں پہلے سروس بیسڈ انڈسٹری تنزولی کا شکار ہے رہی سہی کسر زبوں حالی کے شکار قومی شاہراہوں نے پوری کردی ہے۔ سب جانتے ہیں بلوچستان میں تنگ اور خستہ حال شاہراہیں عوام کی جان کو آچکی ہیں نہ صرف قومی شاہراہوں پر آئے روز دلخراش ٹریفک حادثات رونما ہورہے ہیں

بلکہ اس میں بہت سی قیمتی جانیں بھی ضائع ہوجاتی ہیں ایسے میں کوئٹہ کراچی شاہراہ کو دو رویہ بنانے اور اس کی حالت زار کو بہتر بنانے کے منصوبے کو وفاقی پی ایس ڈی پی سے نکالنا صحیح اقدام نہیں اس سلسلے میں وزیراعلی اور صوبائی وزیر خزانہ بھی خدشات و تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔ بلوچستان ملک کے دیگر صوبوں سے پہلے ہی ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے ہیں۔

حالیہ کورونا وائرس کی وبا کے بعد تو یہاں صنعت و تجارت اور سروس بیسڈ انڈسٹری مزید تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ یہاں آبادی کے بہت بڑے حصہ کا ذریعہ معاش بارڈر اور بارٹر ٹریڈ سے وابستہ ہے لیکن گزشتہ 3سے زائد عرصے سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدات پر کاروباری سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں پٹرولیم مصنوعات اور گیس کی قیمتیں کم ہوئی ہیں

لیکن پاکستان میں اس سے پیدا ہونے والے بجلی اور دیگر کے ریٹس میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔ تمام انڈیکیٹرز منفی میں ہیں ایسے میں صنعت و تجارت اور دیگر شعبوں کو ریلیف دینا وقت کی اہم ضرورت ہوا کرتی ہے، انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی کسی کے مفاد میں نہیں۔ وفاقی مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ شرح نمو 0.-38بتا رہا ہے جبکہ آئی ایم ایف اسے 1.5بتارہا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں تمام شعبہ جات خسارے میں ہیں حکومت کو اگر درپیش چیلنجز، پسماندگی غربت اور بے روزگاری کے چیلنجز سے نمٹنا ہے تو وہ بلوچستان کے لئے بھی ملک بھر میں صحت کے شعبے کی طرح اسپیشل پیکیج کا اعلان کریں۔

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے