جمعرات 26 ذوالحجہ 1442ﻫ - 5 اگست 2021

امریکی سرکاری رپورٹ میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف حملوں اور امتیازی سلوک پر اظہار تشویش

ایک امریکی سرکاری رپورٹ میں بھارت میں مذہبی اور نسلی اقلیتوں پر حملوں اور انکے ساتھ امتیازی سلوک پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے تیار کردہ انٹرنیشنل مذہبی آزادی رپورٹ 2019 جس میں دنیا بھر میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کے بڑے واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے بدھ کے روز سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں جاری کی۔رپورٹ میں گذشتہ برس اگست میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور دسمبر میں بھارتی پارلیمنٹ کیطرف سے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کی منظوری کو گذشتہ سال بھارت میں پیش آنے والے بڑے واقعات کے طور پر پیش کیا گیا۔امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے بین الاقوامی مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کانگریس کو پیش کی جانے والی اس سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دسمبر2019 میں بھارتی پارلیمنٹ نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) منظور کیا جس سے افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے 31دسمبر2014یا اس سے قبل بھارت میں داخل ہونے والے ہندو وں، سکھوں ، بوھوﺅں، پارسیوں اور جین مت والوں کے لئے شہریت کی راہیںکھل گئیں لیکن اس قانون کے تحت وہ تارکین وطن جو مسلمان ، یہودی ، ملحد یا دوسرے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں شہریت حاصل نہیں کر سکیں گے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اس قانون کو میڈیا اور مذہبی اقلیتوں کی طرف سے سخت تنقید نشانہ بننا پڑا جبکہ بھارتی سپریم کورٹ میں بھی اسے چیلنج کیا گیا۔ امریکی رپورٹ میں کہا کہ اس قانون کی منظوری کے بعد اترپردیش اور آسام میں مظاہرین اور بھارتی فورسز کے مابین پرتشدد جھڑپوں کے نتیجے میں 25 شہری ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگست 2019 میںبھارتی حکومت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو کالعدم قرار دے کر اسے دو مرکزی علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیاجبکہ اس اقدام کو بھی بھارت کی اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں ، انسانی حقوق کے کارکنوں، مسلم رہنماﺅں اور دیگر افراد کی طرف سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور سپریم کورٹ میں بھی اسے چیلنج کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں اضافی فوجی بھیجے ، انٹرنیٹ اور فون لائنیں بند کردیں اور 2019کے آخر تک فون بحال نہیں کیے گئے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت نے دسمبر2019کے وسط تک کشمیر میں بیشتر مساجد کو بھی بند رکھا جبکہ مظاہروں کے دوران سترہ شہری اور تین فورس اہلکار مارے گئے ۔رپورٹ میں بھارت کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ متعدد غیر سرکاری تنظیموں اور ذرائع ابلاغ کے اداروں کی رپورٹس کے مطابق تشددکرکے ہلاک کرنے اور فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کو قانونی اداروں کی طرف سے کبھی کبھی نظرانداز کیا گیا جبکہ حکومت بعض اوقات مذہبی اقلیتوں ، پسماندہ طبقات اور حکومت کے ناقدین پر ہجوم کے حملوں کو روکنے یا روکنے کے لئے کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔رپورٹ میںکہا گیا کہ کچھ غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق بھارتی حکام اکثر مجرموں کو قانونی چارہ جوئی سے بچاتے اور متاثرہ افراد کے خلاف ہی الزامات دائر کرتے ہیں۔اس رپورٹ میں بابری مسجد کیس سے متعلق بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کا ذکرکرتے ہوئے کہا گیا کہ معروف مسلم تنظیموں اچور رہنماﺅںنے عدالت سے استدعا کی کہ وہ اس فیصلے پر نظرثانی کرے اور مسجد کو جسے ہندو قوم پرست تنظیموں کے کارکنوں نے 1992 میں مسمار کیا تھا کو اس کی اصل جگہ پر دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے لیکن عدالت عظمیٰ نے ان درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے اپنے فیصلے کو برقرار رکھا۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے