پیر 30 شعبان 1442ﻫ - 12 اپریل 2021

نامور اداکارہ صبیحہ خانم امریکہ میں انتقال کرگئیں

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

نامور اداکارہ صبیحہ خانم ہفتہ کی صبح ورجینیا، امریکہ میں انتقال کرگئیں، جہاں وہ اپنی بیٹی کے ساتھ مقیم تھیں.

وہ 16 اکتوبر 1935 کو گجرات، پنجاب میں پیدا ہوئی تھیں. وہ مشہور فن کار جوڑے ماہیا اور بالو کی بیٹی تھیں. ان کا اصل نام مختار بیگم تھا. انہوں نے فنی زندگی کا آغاز لاہور میں ایک ڈرامے "بت شکن” میں کام کرکے کیا. انور کمال پاشا نے ایک فلم میں چھوٹی بچی کا کردار دیا، پھر انہوں نے ہی اپنی فلم ’’دو آنسو‘‘ میں ہیروئن کاسٹ کیا. یہ فلم تو اتنی کامیاب نہیں ہوئی، اس کے بعد انور کمال پاشا کی ہی فلم ’’گمنام‘‘ میں صبیحہ نے فلم بینوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیا. فلم "سرفروش” سے صبیحہ ایک اہم اداکارہ مان لی گئیں.

اس کے بعد ان کی سات لاکھ، چھوٹی بیگم، ناجی، حسرت، دامن، سوال، وعدہ، ایاز، عشق لیلیٰ اور اک گناہ اور سہی پاکستانی فلمی صنعت کی مایہ ناز فلمیں ہیں. اسی دوران نامور ہیرو سنتوش کمار ان کے عشق میں گرفتار ہوگئے اور بالآخر ان کی شادی ہوگئی۔ حیران کن طور پر سنتوش کی پہلی بیوی سے صبیحہ کے تعلقات بہت اچھے رہے. یہ شاید سنتوش کے مہذب گھرانے کا اثر بھی تھا.

صبیحہ نے سنتوش کمار کے ساتھ بے شمار فلموں میں کام کیا، جن میں چند پنجابی بھی تھی‌ ۔
سدھیر کے ساتھ صبیحہ کی فلم ’’دُلّا بھٹی‘‘ بھی بہت مقبول ہوئی. خاص طور پر ان پر فلمایا گیا منور سلطانہ کا گایا گیت…. واسطہ ای رب دا توں جاویں وے کبوترا…. چٹھی میرے ڈھول نوں پہنچاویں وے کبوترا….اس زمانے میں ہر شخص کی زبان پر تھا. فلم” مکھڑا” میں صبیحہ خانم پر فلمائے، زبیدہ خانم کے گائے گیت…. دِلا ٹھہر جا یار دا نظارہ لین دے…. کوئی جاندی واری سجناں نوں گل کہن دے… نے بھی ریکارڈ مقبولیت حاصل کی. ان پر فلمائے کچھ اور مشہور گیت یہ ہیں:

گھونگھٹ اٹھا لوں کہ گھونگھٹ نکالوں… سیّاں جی کا کہنا میں مانوں کہ ٹالوں(سات لاکھ)

تُو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے… پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے(گمنام)

نہ چھڑا سکوکے دامن نہ نظر بچا سکو گے…. جو میں دل کی بات کہہ دوں توکہیں نہ جاسکوگے(دامن)

لٹ الجھی سلجھا جا رے بالم….. میں نہ لگاؤں گی ہاتھ رے (سوال)

او مینا نہ جانے کیا ہوگیا… میرا دل کھو گیا (چھوٹی بیگم)

رقص میں ہے سارا جہاں (ایاز)

چاند تکے چھپ چھپ کے اونچی کھجور سے (عشق لیلی’)

صبیحہ خانم نے پاکستان ٹیلی ویژن پر گلوکاری کے جوہر بھی دکھائے. ان کا گایا ہوا قومی نغمہ ’’جُگ جُگ جیے میرا پیارا وطن‘‘ بہت مقبول ہوا.
صبیحہ خانم کو سلور سکرین کی "گولڈن گرل” کہا جاتا تھا۔انہیں فلم ’’ اک گناہ اور سہی‘‘ پر تاشقند فلم فیسٹیول میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ دیا گیا اور 1987ء میں صدر پاکستان نے پرائڈ آف پرفارمنس سے نوازا.
وہ شاید ہماری فلمی صنعت کی سب سے معزز اداکارہ تھیں.

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے