ہفتہ 10 ربیع الاول 1443ﻫ - 16 اکتوبر 2021

انڈونیشیا کے جزیرے جاوا کا وہ پکوان جس نے وبا کو شہر سے بھگا دیا

ایک حکایت کے مطابق جب یوگیہ کرتا نامی شہر میں وبا آئی تو اس وقت کے سلطان نے اپنی رعایا سے کہا کہ وہ سیُور لودہ نامی کھانا پکا کر کھائیں اور 49 دن تک اپنے اپنے گھروں میں محصور رہیں۔ اس طرح جلد ہی وبا ختم ہوگئی اور اس کے ساتھ ایک ایسی روایت شروع ہو گئی جو آج تک جاری ہے۔

سیور لودہ سبزی کا ایک سادہ سا سالن ہے جو سات مختلف سبزیوں سے تیار کیا جاتا ہے اور اس کا شوربا مزیدار مسالحوں والے ناریل سے بنا ہوتا ہے۔ ماہرینِ غذائیت جنھوں نے اس غذا کے اجزا کا مطالعہ کیا ہے وہ اس میں خولجان (گیلنگال) جیسی اضافی اشیا کے فوائد کے بارے میں بہت اچھی رائے رکھتے ہیں۔

خولجان کے متعلق کہا جاتا ہے اس میں جلن دور کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ ماہرین اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ بآسانی دستیاب ہو جانے والی موسمی سبزیوں پر مشتمل یہ کھانا قرنطینہ کے دنوں کے لیے بہترین غذا ہے۔

لیکن سلطان کے سیور لودہ کے پکانے کے حکم کی سب سے زیادہ اہم بات یہ تھی کہ یہ سماجی یکجہتی کے لیے ایک اپیل بھی تھی۔ ایک پورا شہر ایک اہم وقت میں ایک ہی غذا تیار کر رہا ہو یہ ایک قسم کی باہمی یگانگت کا احساس بھی پیدا کرتا ہے۔

جاوا کے ثقافتی ورثہ کے محقق روی یانتو بودی سنتوسا کہتے ہیں ’جاوا کی ثقافت کے کئی پہلوؤں کی طرح اس کا ایک مقصد بدشگونی کو دور کرنا ہے۔ بدشگونی کو دور کرنے کو کسی فرد کی کامیابی پر ترجیح دی جاتی ہے۔ جاوا کے لوگ سوچتے ہیں کہ ان کی زندگی میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہے، زندگی خود ہی اپنی حفاظت کرتی ہے۔‘

جاوا کے کھانے مجموعی طور پر علامتی دولت سے بھی مالا مال ہیں۔ مثال کے طوثر پر ’ناسی تُمپنگ‘ سبزیوں اور گوشت کی آمیزش والی غذا ہے جس کے اوپر زرد رنگ کے چاول سجائے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کھانے کو اس طرح سجایا جاتا ہے جس طرح آسمان کے نیچے دنیا سجی ہوئی ہے۔

’ناسی کوننگ‘ ایسے خوشبودار چاول ہوتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ نئے گھر یا نئے کاروبار کے لیے اچھا شگون سمجھے جاتے ہیں اور ہلدی سے تیار کیے گئے مشروب جسے ’جامو‘ کہتے ہیں اور یہ نام جاوا زبان کے ایک لفظ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے ’صحت کی دعا‘، اس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس کے پینے سے سکون پیدا ہوتا ہے۔

سیور لودہ کے کھانے کو لسانی علامت کے طور پر بھی اور اعداد کی علامت کے طور پر بھی لیا جاتا ہے۔ اس کے سات اجزا جنھیں ناریل کے دودھ میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان سات اجزا میں میلِنجو (زیتون جیسا ایک پھل)، میلِنجو کے پتے، چایوٹ (ایک سکواش جیسا مشروب)، لمبی پھلیاں، بینگن، کٹھل اور سویا بین کی پھلی شامل ہیں اور ان سب کے ان کے مقامی ناموں میں ان کی آوازوں کی بھی ایک علامتی حیثیت ہے۔

ایک اہم مقصد بدشگونی کو دور کرنا ہوتا ہے

جاوا کی مقامی زبان میں بینگن کے نام ’ٹیرنگ وونگو‘ کے لفظ ’وونگو’ کا مطلب اُودا رنگ ہے لیکن ساتھ ساتھ اس سے مراد ’بیداری‘ بھی لیا جاتا ہے۔ جبکہ لمبی پھلیوں کے لیے جاوا زبان کے لفظ ’کچنگ لنجار‘ کے لفظ ’لنجار‘ سے مراد ’نیک بختی‘ لیا جاتا ہے۔ ان تمام سات اشیا کو جب ایک جگہ جمع کر لیا جاتا ہے تو یہ ایک طرح کا اچھا شگون بن جاتا ہے۔

سیور لودہ کے تیار کرنے کی مثال ’سلامیتان‘ جو کہ ایک سماجی رسم ہے، جس کے بارے میں علومِ بشریات کے ماہر کلفورڈ گیرٹز کہتے ہیں کہ یہ جاوا کی ثقافت کی شناخت کی بنیادی علامت ہے۔ ’سلامیتانی‘ سے اصل مراد اس سے جڑی جبریت یا قسمت ہے۔ سیور لودہ کی رسم بغیر اس توقع کے ادا کی جاتی ہے کہ اس سے کچھ فائدہ ہو گا۔

سنتوسو کا کہنا ہے کہ ’یہ بات بہت دلچسپ ہے کہ سیور لودہ ایک شے کا نام نہیں ہے۔ یہ بد قسمتیوں کے خلاف ایک ردعمل کا نام ہے جس سے ان سب پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس سے بد شگونیوں کے اثر کو کم کیا جاسکتا ہے یا ختم بھی کیا جا سکتا ہے۔‘

باہر سے آنے والوں کے لیے سیور لودہ کی سحر انگیز کہانی میں ایک پہلو اس کا غیر جادوئی ہونا ہے۔ اس پکوان کے اجزا وہ اشیا ہیں جو جاوا کے ہر گھر میں باآسانی دستیاب ہوتی ہیں۔ اس کھانے کو تیار کرنا بہت سادہ کام ہے۔ اس کے تمام اجزا کو ایک برتن میں ڈال دیتے ہیں اور پھر اس برتن کو چولھے پر رکھ دیتے ہیں۔

ماضی میں اس کے پکانے کی ابتدا دو شاہی موروثی تبرکات سے ہوتی تھی، ایک نیزہ اور ایک پرچم، جو مبینہ طور پر پیغمبر محمد کے روضے سے منگوائے گئے تھے۔ ان تبرکات کی سڑکوں اور گلیوں میں زیارت کرائی جاتی تھی۔ آج کل یہ ایک معمول کی غذا بن گئی ہے۔ لسانی اور عددی معنویت کے علاوہ اس میں ایک عملی فائدہ بھی ہے جو شاید عامیانہ نہ ہو اور جس نے سلامتانی کی رسم کو مقبولِ عام بنا دیا ہے۔

اگرچہ سیور لودہ پکانا ایک آسان کام ہے لیکن یہ کیسے بننا شروع ہوا تھا یہ ایک پیچیدہ بات ہے۔ بعض محققین کا کہنا ہے کہ اس کا جاوا کی دسویں صدی میں اپنے عروج کے زمانے تک پھیلی ہوئی تہذیب سے تعلق ہے۔ سیور لودہ کا تعلق سنہ 1006 میں میراپی پہاڑ میں لاوے کے پھٹ جانے کے ایک واقعے کے دوران وہاں کے رہائیشیوں کی پناہ کے دنوں سے جڑا ہوا ہے۔
خوراک کی تاریخ کے ماہرین، فضل رحمان سیور لودہ کا تعلق سولہویں صدی کے زمانے سے شروع کرتے ہیں جب ان کے خیال میں ہسپانویوں اور پرتگالیوں نے جاوا میں لمبی پھلیاں متعارف کرائی تھیں۔ اس کے باوجود بھی دیگر محققین کہتے ہیں کہ یہ زمانۂ قدیم کی ایک روایت تھی جسے انیسویں صدی میں دریافت کیا گیا تھا۔

بیسویں صدی کے آغاز میں جب انڈونیشیا میں قوم پرستی کی بیداری کی تحریک شروع ہوئی تو وہاں کے دانشوراوں نے کئی دیگر روایات کو دریافت کرنے کے دوران اس روایت کو بھی دوبارہ سے منانا شروع کر دیا۔

اگر کچھ اور نہیں تو بیسویں صدی میں اس روایت کو بہت زیادہ پروان چڑھایا گیا۔ اس کی سب سے مشہور مثال سنہ 1930 کی دہائی میں سلطان حمنگ کوبو وونو ہشتم کے زمانے سے جڑی ہے جب جاوا میں طاعون کی وبا کی کئی لہریں دو دہائیوں تک آتی رہیں۔ لیکن مقامی ریکارڈ کے مطابق، سیور لودہ سنہ 1876، سنہ 1892، سنہ 1946، سنہ 1948 اور سنہ 1951 کے دوران بھی بحرانوں سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار کی جاتی رہی ہے۔

اس کی تاریخ اس وقت مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے جب مختلف ادوار میں سیور لودہ مجموع الجزائر مالے میں مقبول غذا بن جاتی ہے۔ ان جزائر میں اس کے مقبول ہونے کو علحیدہ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہاں یہ کب اور کیسے مقبول غذا بنی۔

خوراک کے ایک تاریخ دان خیر جوہری کا ماننا ہے کہ سیور لودہ کے بارے میں اس طرح کے سوالات بے معنی ہیں۔

’جب ہم خوراک کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں تو اس روش کا شکار ہوتے ہیں کہ نقطوں کو ملا کر ایک تسلسل والی کہانی بنائیں، لیکن یہاں کئی کہانیاں اور ان کے کئی آغاز ہوتے ہیں۔‘

جوہری کا خیال ہے ’سنگاپور میں چینیوں کی ’پیراناکان‘ نامی کمیونیٹی چاولوں کے ساتھ سیور لودہ اپنے کھانے میں شامل کرتے ہیں جبکہ اسی ملک میں رہنے والے جاوا کے لوگ ہلدی کے بغیر پکاتے ہیں۔‘

روایتی غذاؤں کے فوائد

جوہری کے خیال میں سیور لودہ کی ان جزائر میں مختلف شکلوں میں تیاری اس پر غذائی، ثقافتی، سماجی، معاشرتی اور ماحولیاتی اثرات پیش کرتا ہے۔ جبکہ یوگیہ کرتا کے سرسبز میدان میں ایسی سبزیاں اگائی جاتی ہیں جن سے مقامی دیہاتی لاوے کے پہاڑوں کے پھٹنے یا وباؤں کے دنوں میں انھیں پکا کر اپنا گزارا کرتے رہے ہیں۔

یہ پورا خطہ کئی سمندری رستوں کے لیے کھلا ہوا ہے جہاں قرنطینہ کا مطلب ہے کہ نئے آنے والے مسافر کو مکمل طور پر سب سے الگ رکھنا ہے۔

اس بات کا امکان بھی ہو سکتا ہے کہ جاوا کہ ملاحوں نے یوگ یکارتا کے اس پکوان کو دوسرے علاقوں میں مقبول کیا ہو گا۔یخنی، مچھلی کا شوربا، سیور لودہ جیسی غذا، جہازوں پر رہنے والوں کے لیے پکانا بہت زیادہ آسان ہوتی ہے۔

اور ظاہر ہے کہ پکوانوں میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا کے شہری علاقوں میں آج سیور لودہ کے پکوان کو صحت مند غذا کے طور پر پھر سے دریافت کیا گیا ہے۔

یہ یہاں کے مقامی متوسط طبقے کے لوگوں کے لیے ان کے ورثے کی علامت جیسی غذا کے طور پر بھی مقبول ہو رہی ہے: انسٹا گرام نسل میں سیور لودہ کی شوخ رنگوں والی تصویریں موازنے، مقابلے اور لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوششوں میں بہت زیادہ استعمال ہو رہی ہیں۔

جکارتہ کہ ایک اونچے طبقے کے ایک انتہائی آزاد خیال علاقے میں ایک کیفے کی مالکن نووا دیوی سیتیابودی کہتی ہیں کہ ’جب میں نے پہلی مرتبہ یہ جگہ کھولی تو لوگ یہاں پر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے لیے جامو پیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو میں اپنی ثقافت سے کتنا جڑا ہوا ہوں۔ لیکن اب انڈونیشینز اس بات کا احساس کرنے لگ گئے ہیں کہ ان روایتی غذاؤں کے صحت کے لیے کتنے زیادہ فوائد ہیں۔ ہم عموماً ان کے اجزا کے میڈیکل فوائد سے آگاہ نہیں ہوتے ہیں مثلاً اس میں استعمال ہونے والے تیز پتے، لیموں کی گھاس یا خولنجان۔‘

یوگیہ کرتا سے باہر شاید سیور لودہ اپنے حقیقی معنی کھو بیٹھا ہو، لیکن اب بھی اس پکوان کو صرف کھانا نہیں سمجھا جاتا ہے۔ نووا کہتی ہیں کہ ‘لودہ صرف ایک غذا ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک عظیم فلسفہ جڑا ہوا ہے، اس کے پیچھے ایک دانش ہے۔ اس کا اصل راز اس کے تازہ اجزا ہیں۔’

فی الحال جکارتہ میں کھانوں کے بدلتے ہوئے رجحانات کا سیور لودہ کی مقبولیت سےکوئی تعلق نہیں ہے۔ جب واٹس ایپ گروپ میں کووڈ 19 کے دوران سیور لودہ کے پکانے کی ترکیب کو یوگیہ کرتا کے موجودہ سلطان کی جانب سے ایک حکم کی طرح شیئر کیا گیا تو شہر کی اکثریت نے اسے دل سے قبول کیا اور لوگوں نے اسے پکانا شروع کر دیا اور اپنے ہمسایوں کو بھی پیش کیا۔

یوگیہ کرتا شہر ہوٹلوں، شاپنگ مالز اور ایئر پورٹ کی تیزی سے تعمیر کی وجہ سے گزشتہ بیس برسوں میں کافی تبدیل ہو چکا ہے، لیکن معاشرتی رسومات کی ضرورت اب بھی برقرار ہے۔ اگر کوئی بات کہی جاسکتی ہے تو یہ سمجھیے کہ کمیونیکیشن میں ٹیکنالوجی کی ترقی نے لوگوں کی پرانی چیزوں سے جذباتی لگاؤ کو اور زیادہ مضبوط کیا ہے۔

بہرحال یوگیہ کرتا میں کوئی بھی یقین کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ آیا سیور لودہ کے پکانے کا حکم سلطان کی جانب سے جاری کیا گیا تھا یا نہیں۔ محل کے ایک ترجمان نے ایک مقامی اخبار کو بتایا تھا ایسا کوئی حکم سلطان کی جانب سے جاری نہیں ہوا تھا، لیکن اس تردیدی بیان پر کسی کو یقین نہیں ہے۔

اب جبکہ یوگيہ کرتا کا سلطان انڈونیشیا کے نظام میں ایک انوکھی سی بات ہے، یعنی اس جمہوریہ کے اندر ایک سلطنت، موجودہ سلطان اپنے آپ کو ایک جدت پسند ظاہر کرنا چاہتا ہے اس لیے وہ اس کھانے سے جڑی پرانی توہمات اور رسومات سے اپنے آپ کو دور رکھنا چاہتا ہے۔ اس کا اس روایت کو تسلیم کرنے سے گریز کرنا اس کے لیے ایک سیاسی خطرہ بن سکتا ہے۔

موجودہ وبا کے تناظر میں صحت عامہ کے حکام سمجھتے ہیں کہ جب رمضان کے بعد ہزاروں لوگ انڈونیشیا کے طول و عرض میں سفر کریں گے تو وہ نادانستاً کووڈ 19 کے پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اگرچہ یوگیہ کرتا میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تصدیق شدہ تعداد کم ہے، لیکن یہ سلطنت کے لیے مثبت نہیں سمجھا جائے گا کہ سیور لودہ پکانے کا یہ حکم اس وائرس کے خلاف اقدامات کا ایک مرکزی حصہ ہے۔

اگرچہ اس منطق سے ہمدردی کی جا سکتی ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ مقامی لوگوں کی سیور لودہ سے جذباتی لگاؤ غلط ہے۔ یوگیہ کرتا کے مقامی لوگوں نے موجودہ وبا کے بحران کا اسی طرح مقابلہ کیا ہے جس طرح کہ وہ ماضی میں کرتے آئے ہیں، یعنی سیور لودہ پکا کر اور ان کے لیے یہ کوئی معنی نہیں رکھتا ہے کہ آیا حکم سلطان کی جانب سے جاری کیا گیا تھا یا نہیں۔ اب وہ 49 دن انتظار کریں گے۔

سیور لود ہ کے پکانے کی ترکیب

تیاری کا وقت: 15 منٹ، پکانے کا وقت 20 منٹ اور کھانا پیش کرنے کا وقت: چار منٹ

اجزا

50 گرام ملنجو

100 گرم ملنجو کے پتے

200 گرام چایوٹ

100 گرام لمبی پھلیاں

ایک عدد بینگن

ایک عدد کٹھل

ایک عدد سویا بین کی بنی پیٹھی

100 ملی لیٹر ناریل کا دودھ

مصالحہ جات

چھ عدد انڈونیشین پیاز

لہسن کے تین جوے

ایک چمچ دھنیا کا پاؤڈر

ایک چمچ نمک

ایک چمچ چینی

اس کے علاوہ

ایک عدد سرخ مرچ

تین عدد سبز مرچیں

ایک سینٹی میٹر خولجان

ایک عدد تیز پات

سبزی بنانے کی ترکیب

چایوٹ کو کیوبز کے سائز میں کاٹ لیں

لمبی پھلیوں کو دو دو سینٹی میٹر کے سائز میں کاٹ لیں

بینگن کو بھی کیوبز کے سائز میں کاٹ لیں

کٹھل کو چھیل کر کاٹ لیں

م ص الحے بنانے کی ترکیب

پیاز، لہسن، دھنیا، نمک اور چینی کو ایک جگہ ملائیں۔

سرخ اور سبز مرچوں کو باریک باریک کاٹ لیں۔

پکانے کا طریقہ

ناریل کے دودھ کو مصالحوں میں ملاتے ہوئے ہلاتے ہوئے ابال لیں۔

اس میں خولجان، کٹھل، چایوٹ، ملنجو اور لمبی پھلیاں شامل کریں۔

ملنجو کے پتوں، مرچ، بینگن اور سویا بین کی بنی ہوئی پیٹھی کا اس میں اضافہ کریں اور اسے اتنی دیر تک پکائیں کہ یہ سب گل جائے۔

یہ بھی دیکھیں

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام مذہبی امور

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے