جمعرات 3 رمضان 1442ﻫ - 15 اپریل 2021

ۤآئی ایم ایف کی اتنی جرأت ہوئی کہ اس نے کہا دفاعی بجٹ منجمد کردیا جائے، رضا ربانی

اسلام آباد: حکومت کو سینیٹ میں اپوزیشن کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس نے بجٹ کو غیر حقیقی قرار دیا۔

اس موقع پر ایک وفاقی وزیر نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی نااہلی اور بدعنوانی کی وجہ سے قومی خزانے کو ایک کھرب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وزیر برائے انسداد منشیات اعظم سواتی نے ایف بی آر کے خلاف دھواں دھار تقریر کرتے ہوئے اسے ملک کا سب سے بدعنوان ادارہ قرار دیا۔

خیال رہے کہ اعظم سواتی کے کابینہ کے حالیہ اجلاس میں بھی ایف بی آر کے لیے یہی الفاظ استعمال کیے تھے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم نے بھی ان کے اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ’ہاں یہ 100 فیصد بدعنوان ہے اور اسی لیے ہم آٹومیشن کی جانب جارہے ہیں‘ ساتھ ہی یہ الزام بھی لگایا کہ ایف بی آر کے زیادہ تر افسران انتہائی بدعنوان ہیں اور حتیٰ کہ ایف بی آر کے انسپکٹرز بھی بڑا پیسہ بنا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک اور عوام کو آگے لے جانے کے لیے ٹیکس بیس میں توسیع انتہائی اہم اقدام ہے۔

اس پر جماعت اسلامی کے سینٹر مشتاق احمد نے کہا کہ بجٹ کی اتنی اہم بحث کے موقع پر سینیٹ گیلری میں ایف بی آر کا کوئی سینئر افسر موجود نہیں۔

جس پر چیئرمین سینیٹ نے ہدایت کی کہ ایف بی آر چیئرپرسن، اراکین پالیسی، اراکین کسٹم اور اراکین انکم ٹیکس بدھ کے روز سینیٹ اجلاس کے انعقاد سے قبل موجود ہوں۔

قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور سینیٹر رضا ربانی نے حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سیاسی اور معاشی خودمختاری کو اس حد تک گروی رکھوا چکی ہے کہ مالی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی اتنی جرأت ہوگئی کہ اس نے کہا کہ پاکستان میں دفاعی بجٹ بھی منجمد کردیا جائے۔

سینیٹ کے اجلاس میں خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ پیش کردہ بجٹ کے 6 ستون ہیں، آئی ایم ایف سے ڈکٹیشن، بجٹ میں کیپیٹلزم کا گٹھ جوڑ، مافیا، صوبوں کے حصہ کو کم کرنا اورائی ایم ایف کے اسٹافرز سے بات کرکے بجٹ بنانا۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں اتنی مداخلت آئی ایم ایف کی جانب سے پہلے کبھی نظر نہیں آئی کہ عالمی مالیاتی ادارے کے کہنے پر تنخواہ اور پنشن کو منجمد کردیا گیا۔

سینیٹر رضا بانی نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں عام انسان کے لیے کچھ نہیں، موجودہ بجٹ، بجٹ ہے بھی نہیں بلکہ ایک دھوکا ہے جو ہمارے سامنے رکھا۔

انہوں نے کہا کہ اصل بجٹ آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھا ہوا ہے۔

رضا ربانی نے کہا کہ بجٹ میں نے بے روزگاری، مہنگائی ، صحت کے لیے کوئی ریلیف نہیں ہے جبکہ بجٹ میں تیل کی قیمت بڑھانے کی بات کی گئی ہے۔

سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ نیب اور ایف آئی اے کے ملازمین کی تنخواہوں میں انھوں نے پہلے ہی اضافہ کر دیا۔

سینیٹر شیری رحمٰن نے بجٹ بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ سارا ملک پارلیمان کی جانب دیکھ رہا ہے کیونکہ ان سنگین حالات میں لگتا ہے بجٹ کسی اور سیارے پر بنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ گزشتہ بجٹ کا کاپی پیسٹ ہے جبکہ کورونا سے قبل ملک کے معاشی اور اقتصادی حالات ایسے نہج پر تھے کہ پورا ملک پوچھ رہا تھا کہ معیشت کون چلا رہا ہے؟۔

شیری رحمٰن نے کہا کہ موجودہ بجٹ کورونا کرائسز بجٹ ہونا چاہیے تھا، ہسپتالوں پر دباو ہے۔

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے