اتوار 27 رمضان 1442ﻫ - 9 مئی 2021

سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد انصاف سے محروم رکھ کر ریاست نے بھی ہمارے زخموں پر نمک چھڑکا: بسمہ امجد

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی شہیدہ تنزیلہ امجد کی بیٹی بسمہ امجد نے کہا ہے کہ سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے اپنے دفتر میں بلا کر میرے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا کہ آپ تعلیم پر توجہ دیں انصاف میں دوں گا، میں سمجھتی ہوں کہ کسی ادارے کے سربراہ کی کمٹمنٹ پورے ادارے کی کمٹمنٹ ہوتی ہے مگر مجھے اس بات کا دکھ ہے کہ اتنی بڑی عدالت کے سب سے بڑے سربراہ کی کمٹمنٹ پر عمل نہیں ہوا اور مجھے میری ماں کا انصاف نہیں ملا، میں نے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے کہا تھا کہ میری ماں کا کیا قصور تھا کہ انہیں گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا، میرے اس سوال کے بعد پھر دوبارہ سابق چیف جسٹس نے مجھے انصاف کی یقین دہانی کروائی تھی، اسی طرح ریاست کے دیگر اہم عہدیداروں نے بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے انصاف کی یقین دہانی کروائی مگر کوئی وعدہ بھی پورا نہیں ہوا، انہوں نے کہا کہ آج بھی میرا یہ سوال ہے کہ میری والدہ نے کون سا قصور کیا تھا، کون سا قانون توڑا تھا کہ اس کی جان لے لی گئی۔

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے