منگل 21 صفر 1443ﻫ - 28 ستمبر 2021

بھارت اور چین کے مابین تنازعات پر ایک نظر

‘ہندی چینی، بھائی بھائی’، کبھی یہ نعرہ بھارتیوں کے دلوں پر راج کرتا تھا۔ تب کسی بھارتی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ چین بھارت پر حملہ کر سکتا ہے۔ لیکن 1962 میں چین نے بھارت پر حملہ کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان تقریبا ایک ماہ تک جنگ چلی۔

اس کے پانچ برس بعد 1967 میں پھر سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہوئی۔ اس میں چین کو شکست کھانی پڑی۔ تب سے آج تک دونوں ممالک کے درمیان کھبی بھی جنگ نہیں ہوئی۔ ہاں کئی موقوں پر جنگ جیسے حالات ضرور بنے۔ نظر ڈالتے ہیں بھارت اور چین کے رشتوں پر…

سنہ 1962 میں بھارت اور چین کے درمیان ہوئی جنگ میں 10 سے 20 ہزار بھارتی فوجیوں اور تقریبا 80 ہزار چینی فوجویوں کے درمیان آمنے سامنے کی جنگ ہوئی۔ یہ جنگ تقریبا ایک ماہ تک جاری رہی اور 21 نومبر کو اس جنگ کا خاتمہ اس وقت ہوا، جب چین نے جنگ بندی کا اعلان کیا۔

سنہ 1967 میں بھارتی فوج نے چین کو کرارا جواب دیتے ہوئے تقریبا 300 سے 400 چینی فوجیوں کو ہلاک کیا۔ حالانکہ، اس دوران بھارتی فوج کے بھی 80 جوان ہلاک ہو گئے تھے۔

جہاں کہیں بھی زمین سے متعلق تنازع ہوتا ہے،بی ایل اے خاص طور سے تین طرح کی حکمت عملی اپناتی ہے۔

پہلی: زمین تنازعے کے معاملے میں دشمن سے نمٹنے کے دوران مخالف کو اس زمینی علاقے سے ہر ممکن بے دخل کرنے کی کوشش کرتا اور اس پر قابض ہونے کی بھی پالیسی پر عمل پیرا ہوتا ہے۔

دوسری: اس علاقے کا مطالبہ کرنا، جو اس کے مخالف کے پاس ہے۔

تیسری: اگر مخالف ملک کی زمین چین کی زمین کے درمیان آتی ہے، تو دشمن کو اس زمین کے لیے بھی ڈرانے دھمکانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔

اروناچل پردیش میں 1987 میں سمدورونگ چو واقعہ بھارتی فوج اور پی ایل اے کے درمیان ایک ایسا تنازع تھا، جہاں بھارت چین کے درمیان جنگ ہو سکتی تھی۔ لیکن بھارت نے اپنی ڈپلومیسی سے نہ صرف جنگ کو ٹالا، بلکہ چین کو بھی بات چیت کے لیے راضی کر لیا۔ 1987 کے واقعے کا اثر ایسا تھا کہ جب 1988 میں اس وقت کے وزیراعظم راجیو گاندھی نے چین کا دورہ کیا، تو انہوں نے چینی وزیراعظم کے ساتھ برابری سے بات چیت کی۔

اپریل 2013 میں بھارت نے ایل اے سی پر دعوی کیا کہ چینی فوجیوں نے سرحد سے 10 کلومیٹر کی دوری پر کیمپ بنا لیا۔ بھارت نے 19 کلو میٹر زمین پر دعوی کیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، چینی فوجیوں کی ٹکڑی میں تب ہیلی کاپٹر بھی شامل تھے۔ چینی فوجی بھارتی فضائی حدود میں اپنے فوجیوں کو چھوڑنے کے لیے داخل ہو رہے تھے۔ حالانکہ چین نے ان الزامات سے انکار کیا۔ اس کے بعد مئی کی شروعات میں دونوں ممالک نے اپنی فوج کو واپس بلا لیا۔

ستمبر 2014 میں بھارت اور چین کے درمیان ایل اے سی پر تنازع ہوا، جب بھارتی مزدوروں نے سرحدی گاؤں ڈیم چوک میں ایک نہر کی تعمیر کا کام شروع کیا اور چینی شہریوں نے فوج کی حمایت سے اس کی مخالفت کی۔ یہ تقریبا تین ہفتے کے بعد ختم ہوا، جب دونوں ملک اپنے اپنے فوجیوں کو واپس بلانے پر راضی ہوئے۔ بھارتی فوج نے دعوی کیا کہ چینی فوج نے بھارت کی جانب سے دعوی کیے گئے علاقے میں تین کلو میٹر اندر تک ایک کیمپ بنا لیا۔

ستمبر 2015 میں شمالی لداخ کے برٹس علاقے میں چین اور بھارتی فوج آمنے- سامنے ہوئی۔ اس دوران بھارتی فوجیوں نے ایک متنازع چوکیدار کی چوکی کو منہدم کیا، جسے چینی فوجی گشت لائن کے پاس تعمیر کر رہے تھے۔

بھارت اور چین کے درمیان 2017 میں ڈوکلام فوجی تنازع شروع ہوا۔ جون کے ماہ میں بھارت چین کے درمیان ڈوکلام کے متنازع علاقہ ڈوکالا پاس کو لے کر تنازع ہوا۔ 16 جون 2017 کو چین نے ڈوکلام علاقہ میں سڑک کی تعمیر کے آلات رکھے اور متنازع علاقے میں سڑک کی تعمیر کا کام شروع کر دیا۔ اس کے بعد چین نے ڈوکالا کے نیچے ایک سڑک کی تعمیر شروع کردی، جس پر بھارت اور بھوٹان دونوں نے متنازع علاقہ ہونے کا دعوی کیا۔ اس کے نتیجے میں دو روز بعد 18 جون کو چین کی تعمیراتی کام پر بھارت نے مداخلت کی۔

سنہ 2020 میں بھارت چین دونوں ممالک کے درمیان معمولی نوعیت کی جھڑپیں جاری ہیں۔ پانچ مئی 2020 کے بعد سے چینی اور بھارتی فوج کے آمنے سامنے ہونے کی خبریں آ رہی ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے