اتوار 6 رمضان 1442ﻫ - 18 اپریل 2021

صدر ٹرمپ نے دوبارہ منتخب ہونے کے لیے چینی صدر سے مدد مانگی

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جان بولٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ سے درخواست کی تھی کہ وہ 2020 کا صدارتی انتخاب جیتنے میں ان کی مدد کریں۔
جان بولٹن نے یہ دعویٰ اپنی آنے والی کتاب میں کیا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ انکشافات سے بھرپور ہو گی۔ امریکی اخباروں میں اس کتاب کے کچھ حصے شائع ہوئے ہیں۔
جان بولٹن نے صدر ٹرمپ پر الزام لگایا ہے کہ ان کی خارجہ پالیسی اسی کے گرد گھومتی تھی کہ کیسے دوسری مدت کے لیے کامیابی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے مشیر بھی سیاسی حقائق نظر انداز کرنے پر اکثر ان سے ناراضگی کا اظہار کرتے تھے۔
بولٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ چین کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی نظر انداز کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ ایغور مسلمانوں کو حراستی مراکز میں رکھنے پر انہوں نے چینی صدر کو کہا تھا کہ “یہ بالکل ٹھیک اقدام ہے۔”
جان بولٹن نے کہا کہ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ صدر ٹرمپ کا شاید ہی کوئی ایسا فیصلہ ہو جسے کرتے وقت انہوں نے دوبارہ منتخب ہونے کے بارے میں نہ سوچا ہو
جان بولٹن نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ جون میں ہونے والی چینی صدر کے ساتھ اہم ملاقات میں صدر ٹرمپ نے حیران کن طور پر باتوں کا رخ امریکہ کے صدارتی انتخابات کی طرف موڑ دیا۔ انہوں نے شی جن پنگ سے درخواست کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آئندہ انتخابات میں وہ ہی دوبارہ منتخب ہوں۔
جان بولٹن کی یہ کتاب “وہ کمرہ جہاں یہ سب ہوا” کے عنوان سے آئندہ ہفتے شائع ہو گی جس کی اشاعت رکوانے کے لیے ٹرمپ حکومت نے دوسری مرتبہ عدالت سے رجوع کیا ہے۔
امریکہ کے محکمۂ انصاف نے بدھ کو عدالت میں ایک ایمرجنسی آرڈر فائل کیا ہے جس میں اس کتاب کی اشاعت بند کرانے کی استدعا کی گئی ہے۔ محکمۂ انصاف نے اپنی درخواست میں مؤقف اپنایا ہے کہ اگر اس کتاب کے مندرجات شائع ہو گئے تو امریکہ کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچے گا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اپنے ایک انٹرویو میں جان بولٹن کے دعووں سے متعلق کہا ہے کہ بولٹن نے انتہائی حساس معلومات عوام کے سامنے لا کر قانون شکنی کی ہے۔ بعد ازاں صدر ٹرمپ نے اپنی ایک ٹوئٹ میں جان بولٹن کی کتاب کو جھوٹ کا پلندہ اور جھوٹی کہانیوں کا مجموعہ قرار دیا۔
یاد رہے کہ جان بولٹن وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر تھے۔ انہوں نے گزشتہ سال ستمبر میں صدر ٹرمپ کی ہدایت پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے بولٹن سے اختلاف کے باعث استعفیٰ طلب کیا تھا۔
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان سے جان بولٹن کے اس دعوے سے متعلق پوچھا گیا تو اُنہوں نے جواب دیا کہ چین امریکہ کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

یہ بھی دیکھیں

اسلام آباد :خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پی ٹی آئی رہنماء عثمان ڈار کا پیغام۔ 

اسلام آباد :خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پی ٹی آئی رہنماء عثمان ڈار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے