ہفتہ 26 رمضان 1442ﻫ - 8 مئی 2021

صدر ٹرمپ صحافیوں سے شدید نفرت کرتے ہیں ان کے لئے پھانسی کے خواہشمند: جان بولٹن کی کتاب میں امریکی صدر کے حوالے سے تباہ کن انکشافات

نیویارک(رپورٹ: ایم آر فرخ) ان دنوں وائیٹ ہاؤس،محکمہ انصاف اور ٹرمپ انتظامیہ کے قریبی حلقوں میں ایک کھلبلی سی مچی ہوئی ایسا لگتا ہے کسی بڑے طوفان کی آمد سے پہلے ہی زبردست افراتفری پیدا ہوچکی ہے. زلزلے سے پہلے کے یہ جھٹکے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی سے متعلق سابق مشیر جان بولٹن کی آنے والی کتاب سے متعلق ہے. جس میں انہوں صدر ٹرمپ کے بارے میں سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں. کتاب “Room Where It Happened”کو23جون کو مارکیٹ میں لانے کا اعلان کیا گیا ہے. قبل ازیں اسے رواں سال کے شروع میں شائع کرنے کا منصوبہ تھا مگر سیکیورٹی کونسل کے مشاہدے کی وجہ سے اشاعت میں تاخیر کی گئی. صدر ٹرمپ اور انکے مشیروں کے علاوہ محکمہ انصاف کتاب کی اشاعت رکوانے کے لئے ہر ممکن حربے استعمال کررہے ہیں جبکہ صدر ٹرمپ نے اپنے سابق مشیر سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی ہے اور حسب معمول ٹوئیٹر کا سہارا لیتے ہوئے جان بولٹن پر تبرے بھی کررہے ہیں.اپنی تازہ ٹوئیٹس میں انہوں نے لکھا ہے کہ “جان بولٹن جن کی کتاب پر بھیانک تجزئے کئے جارہے ہیں جو مکمل جھوٹ اور گھڑی ہوئی کہانیوں پر مبنی ہیں.جس کا صرف ایک مقصد ہے مجھے برا دکھایا جائے”صدر مزید لکھتے ہیں کہ جان بولٹن نے مجھ سے منسوب کئے بیانات کتاب میں شامل کئے ہیں جو میں نے کبھی دئیے ہی نہیں تھے.انہوں کتاب محض اسلئے لکھی کہ میں نے انکی نااہلی کے باعث انہیں فائر کردیا تھا.کتاب صرف ایک افسانہ ہے.صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جان بولٹن کی یہ غیر ضروری حرکتیں اپنے مالک کے ہاتھوں زناٹے دار تھپڑ کھانے کی وجہ سے ہیں- انہیں سابق صدر جارج بش نے بھی نااہلی کے سبب عہدے ( اقوام متحدہ میں امریکہ کے سابق سفیر) سے قبل ازوقت ہٹا دیا تھا.اسی دوران امریکی میڈیا میں جان بولٹن کی یادداشتوں سے متعلق کتاب کے اقتباسات شائع کئے جارہیں جن میں کئی سنسنی خیز اور حیران کردینے والے انکشافات کئے گئے ہیں.جان لکھتے ہیں جب قومی سلامتی کے مشیر کے لئے انٹرویو دینے گیا تو صدر ٹرمپ نے ان سے کہا کہ وہ انہیں فوکس نیوز پر بولتے بڑے غور سے سنتے تھے.صدر ٹرمپ کی بین القوامی معلومات کے حوالے سے جان بولٹن کا کہنا ہے کہ انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ انگلینڈ نیوکلئیر پاور ہے وہ فن لینڈ کو روس کا حصہ سمجھتے تھے.جان بولٹن لکھتے ہیں امریکی صدر صحافیوں سے سخت نفرت کرتے ہیں اور انہیں بہت گیا گزرا سمجھتے ہیں اور کہتے تھے رپورٹرز کو پھانسی پہُ لٹکا دینا چاہئے.کتاب میں سب سے تباہ کن انکشاف یہ ہے کہ صدر ٹرمپ چینی صدر ژی جنگ پنگ کے ساتھ اپنے مفاد میں دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں انہوں نے چینی صدر کو چین میں اپنے مخالفین کے لئے نازی طرز پر حراستی کیمپ کے قیام کے لئے گرین سگنل بھی دیدیا تھا.صدر ٹرمپ چاہتے تھے کہ چین ان کا اپنا سخت ترین اور جو بائیڈن کو بزدل اور کمزور ظاہر کرے.ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے انکشاف کے ردعمل میں کہا کہ چینی صدر یا کسی کو بھی جنہیں صدر ٹرمپ مداخلت کی دعوت دیں گے میرا واضح پیغام ہے کہ وہ ھمارے معاملات میں مداخلت نہ کریں.اسی دوران جسٹس ڈیپارٹمنٹ نے ایک وفاقی عدالت سے کتاب کی اشاعت رکوانے کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی ہے. مگر اب کافی دیر ہوچکی ہے کیونکہ نیویارک ٹائمز، وال سٹریٹ جنرل سمیت متعدد میڈیا کے پاس کتاب کی کاپیاں موجود ہیں اور اس میں سے کافی اقتباسات شائع ہوچکی ہیں.صدر ٹرمپ کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ مذید چار سال کے لئے صدارت سنھبالنے کے مُوڈ میں نظر نہیں آتے.اسی دوران ہاؤس فارن ریلیشنز کمیٹی کے چئیرمین کانگریس مین ایلیٹ اینگل نے کہا ہے کہ وہ جان بولٹن کے الزامات کی روشنی میں سپیکر نینسی پیلوسی اور دیگر ڈیموکریٹک اراکین سے صدر ٹرمپ کے خلاف ممکنہ اقدامات کے سلسلے میں صلاح مشورے کررہے ہیں.کتاب میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈیموکریٹس نے صدر ٹرمپ کے مواخذہ کے لئے ناقص کیس تیار کیا تھاانہوں نے ٹرمپ کے صرف یوکرائن سکینڈل کو شامل کیا حالانکہ صدر ٹرمپ دیگر غیر ملکی رہنماؤں سے بھی اپنی کامیابی کے لئے امریکی الیکشن میں مداخلت کے خواۂشمند رہے ہیں.

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے