جمعرات 3 رمضان 1442ﻫ - 15 اپریل 2021

لداخ کے بعد چین اروناچل پردیش میں؟

ہندوستانی صحافی اشوک سوان نے سوشل میڈیا پر ہندوستانی شمالی مشرقی ریاستوں کی نیوز سائٹ TheNorthwast کی خبر شئیر کی جس میں بی جے پی کے مقامی ایم ایل اے کے دعویٰ کو لکھا گیا ہے
بے جے پی کے ایم ایل اے تاپر گاؤ کے مطابق

"چین کی فوج بھارتی اروناچل پردیش میں بھارتی سرحد پار کر کے مشقیں کر رہی ہے یہ پریشانی کی بات ہے اور ہمیں چین کے خلاف سخت ایکشن لینا چاہیے یہ ہماری سلامتی کا معاملہ ہے اس معاملے کو میں پارلیمنٹ میں اٹھاؤ گا”

انڈیا اور چین کے درمیان 3488کلومیٹر کی مشترکہ سرحد ہے۔ یہ سرحد جموں وکشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، سکم اور اروناچل پردیشمیں انڈیا سے ملتی ہے اور اس سرحد کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مغربی سیکٹر یعنی جموں و کشمیر، مڈل سیکٹر یعنی ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ اور مشرقی سیکٹر یعنی سکم اور اروناچل پردیش۔
یعنی اب چین بھارت کا تینوں محازوں پر گھیر رہا ہے

۔یہاں یہ واضح رہے کہ بھارت اور چین کے
مطویل بارڈر ہے جسے ایکچوئل لائن آف کنٹرول کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ بیشتر پہاڑی خطہ ہے جو مشرق میں جموں و کشمیر اور لداخ سے ہوتے ہوئے درمیان میں ہماچل پردیش اور اُترا کھنڈ سے گزر کر مشرق میں ارونا چل پردیش سے سکم تک پھیلا ہوا ہے۔ دیرینہ تنازع لداخ کے علاوہ سکم کے بارڈر پر بھی ہے۔ چین کا دعویٰ ہے کہ 1890 میں برٹش انڈیا کے ساتھ اُس کا جو معاہدہ ہوا تھا اُس کے مطابق تبت اور سکم کا درمیانی علاقہ چین کا ہے ۔ چین نے ڈوکلالم کے راستے تبت کے شہر لہالہ اور بھارتی ایکچوئل لائن آف کنٹرول کے قریب واقع نتھو درہ کو جوڑنے کیلئے سڑک کیساتھ ریلوے لائن کی تعمیرو توسیع بھی شروع کروائی ہے۔ علاوہ ازیں تبتی دارالحکومت میں چین اپنی ائیر بیس کو بڑے پیمانے پر توسیع دے رہا ہے۔اصل تنازع گزشتہ ماہ سکمکی سرحد کے نزدیک بھوٹان کے علاقے ڈوکلالم سے شروع ہوا۔ چین یہاں ایک بڑی سڑک تعمیر کرنا چاہتا ہے
۔گلوان ویلی کی طرح پینگونگ جھیل کے علاقہ میں بھی ہاتھا پائی اور پتھرائو کے نتیجے میں دونوں طرف کے اہلکار زخمی ہو چکے ہیں کیونکہ وہاں اقصائے چن کے علاقے پر بھی چین کا دعویٰ ہے۔ سیک موہن لائن کو بھی چین بھارتی علاقہ تسلیم نہیں کرتا اور اِس حوالے سے سیکورٹی کونسل بھی جا چکا ہے۔ اُتراکھنڈ کے لپو لیکھ کے علاقے میں بھارت نے جو نئی تعمیرات کی ہیں ،8 مئی کو بھارتی وزیر دفاع نے اُس کا افتتاح کیا تو چین نے اُس پر بھی اعتراضات اُٹھائے تھے۔
چین بھارت کو گھیر چکا۔دفاعی ماہرین کے مطابق چین کا اگلہ ٹارگٹ چکن نیک کورڈور ہوسکتا جس پر قبضہ سے سات بھارتی ریاستیں کٹ جائیں گی.

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے