پیر 13 صفر 1443ﻫ - 20 ستمبر 2021

برطانیہ کا یہودی مصنوعات کو اپنی مارکیٹوں سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ

برطانوی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ مقبوضہ عرب علاقوں میں قائم کی گئی یہودی کالونیوں کو اسرائیل کا حصہ تسلیم نہیں کرتی اور ان کالونیوں میں تیار ہونے والی اسرائیلی مصنوعات متنازعہ ہیں۔

برطانوی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے 1967کی عرب اسرائیل جنگ میں قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقوں میں قائم کی گئی یہودی کالونیوں میں تیار ہونے والی مصنوعات کو "متنازع” قرار دے کرانہیں دوسری مصنوعات سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانوی حکومت مقبوضہ عرب علاقوں میں قائم کی گئی یہودی کالونیوں کو اسرائیل کا حصہ تسلیم نہیں کرتی اس لئے مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں تیار کی گئی اسرائیلی مصنوعات کو متنازع قرار دے کرانہیں دوسری مصنوعات سے الگ رکھا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقی بیت المقدس اور مغربی کنارے میں قائم کی گئی اسرائیلی کالونیوں کی مصنوعات کو یورپی یونین کے برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان تجارتی معاہدوں میں اسرائیلی مصنوعات کو شامل نہیں کیا جائے گا۔برطانوی حکومت کی وزارت خزانہ اور عالمی تعاون اور انکم ٹیکس نے تجارتی اداروں کو مکتوب ارسال کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ برطانوی حکومت مقبوضہ عرب علاقوں میں قائم اسرائیلی کارخانوں میں تیار ہونے والی مصنوعات پر متنازع کا ٹیگ لگائے گی۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا حکم۔ 

سعودی عرب: دہشت گردی میں ملوّث داعش کے پانچ مشتبہ ارکان کو سزائے موت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے