منگل 13 ربیع الاول 1443ﻫ - 19 اکتوبر 2021

چاہ بہاربندرگاہ امریکہ اسے کیوں فعال دیکھنا چاہتا ہے اوراس بندرگاہ پرپابندیاں کیوں نہیں لگائیں

واشنگٹن :چاہ بہاربندرگاہ امریکہ اسے کیوں فعال دیکھنا چاہتا ہے اوراس بندرگاہ پرپابندیاں کیوں نہیں لگائیں ،اطلاعات کے مطابق ،پاکستان کے خلاف پراکسی وار کو کامیاب کرنے کےلیے امریکہ ،ایران اوربھارت چاہ بہاربندرگاہ کوفعال دیکھنا چاہتے ہیں اوریہی وجہ ہےکہ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن نے ایران کی چابہار بندر گاہ کو اقتصادی پابندیوں سے محدود استثنیٰ دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق انہوں نے بتایا کہ وسیع تر غور و فکر کے بعد نومبر 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ نے (ایران کی چابہاربندر گاہ) کو ایک محدود استثنیٰ دیا۔انہوں نے بتایا کہ ‘اس محدود اجازت کا مقصد افغانستان کی تعمیر نو اور ترقی جاری رکھنا ہے جو ایک اہم امریکی اتحادی ہے’۔

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار نے بتایا کہ چابنہار بندرگاہ پر اس مقصد کے لیے محدود پیمانے پر فعال ہے جس کا واحد مقصد افغانستان کی تعمیر نو ہے۔
واضح رہے کہ اس استثنیٰ کے نتیجے میں بظاہر افغانستان ایرانی ایندھن اور ایران سے تیار شدہ سامان درآمد کرنے کے قابل ہے جو انسانی امداد کے لیے انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بندرگاہ خطے میں امریکی مفادات کے لیے بھی کام کرتی ہے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کےترجمان نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا کی حکمت عملی میں ‘افغانستان کی معاشی نمو اور ترقی کے ساتھ بھارت سے قریبی شراکت داری بھی شامل ہے’۔انہوں نے بتایا کہ بھارت اور افغانستان دونوں کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

چاہ بہار کی تعمیر کا اصل مقصد پاکستان کی گوادر بندرگاہ کاتوڑ ہے ۔جس کے تعمیر ہونے پر خطے کی ساری سمندری تجارت چاہ بہار منتقل کی جائے گی وسط ایشیائی ریاستیں اس سے مستفید ہوگی ۔بھارت کو افغانستان تک تجارت کے لئے رسائی ممکن ہوگی ۔روس اس سے استفادہ کرے گا اور چین کے لئے ایک پرکشش متبادل روٹ موجود ہوگا۔

یہ ساری بحث 24مئی 2016ءتہران میں معاہدے سے شروع ہوئی تھی۔افغانستان ،ایران ،اور ہندوستان کا اتحاد ان تینوں ممالک کے سربراہان کی ملاقات ہوئی جس میں بارہ معاہدوں پر دستحط ہوئے ۔جس میں چاہ بہار پورٹ بھی جو گوادر پورٹ کے مقابلے کھڑی کی جارہی ہے اس کے بارے بھی بات کی گئی ۔پچاس کڑوڑ ڈالر انڈیا لگائے گا چاہ بہار کے لئے اور ایک ریلوئے لائن بھی شامل ہے یہ نیکسس(Nexus)بن رہا ہے اور ہندوستان کے مطابق پاکستان کو سنگل آﺅٹ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

چاہ بہار میں جن معاہدوں پر دستخط ہوئے ۔ثقافتی امن کا معاہدہ ،سائنس کا معاہدہ ،ٹیکنالوجی کا معاہدہ ،چاہ بہار کی ترقی کا معاہدہ ، ریلوئے ٹریک بشانے کا معاہدہ،اور ریلوئے لائن زہدان تک ہوگی۔چاہ بہار پورٹ بنے گی، پچاس کڑوڑ کی سرمایہ کاری ،تیل،گیس کی صنعتیں اور اس سے بڑھ کر خطے میں دہشتگردی کی بنیاد پرستی ،منشیات کی لانت اور سائبر کرائم کے خلاف مل جل کر کام کریں گئے۔

چاہ بہار بندر گاہ کی تعمیر کے لئے بھارت اور ایران کے درمیان معاہدے سے بھارت میں BJPاور RSSکے حلقوں میں زبردست جشن کا سماںہے ۔ اسے نریندر مودی کا عظیم کارنامہ قرارا دیا جارہا ہے ۔ بھارتی میڈیا جو ہمیشہ پاکستان مخالفت میں اپنی حکومت کی پالیسیوں کے ساتھ چلتا ہے۔ اس میں چاہ بہار بندر گا کے حوالے ایک نیا جوش اور ولولہ دکھائی دے رہا ہے۔ اور ساتھ ہی گوادر بندرگاہ منصوبے پر تنقید کے تیر چلا رہا ہے۔

تینوں ممالک نے اپنی طرف سے مل کر 46بیلین ڈالر کی جو پاک چائنہ اقتصادی راہداری کا جواب دیا ہے۔اور انڈین میڈیا اس معاملے پر کافی شورمچا رہا ہے انڈیا آجکل بہت بڑی آفردے رہا ہے اور اسے بہت پروموٹ کیا جارہا ہے سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا پر کہ انڈیا نے بندرگاہ بنائی ہے ۔ جو گوادر پورٹ سے 75کلو میٹر دوری پر چاہ بہار میں ہے اور انڈیا نے آفر کی ہے کہ آپ افغانستان اور پاکستان کو چھوڑیں بائی پاس کریں ۔اور آپ سنٹرل ایشیاءاور روس سے ڈئراکٹ آئیںایران میں اور ایران سے چاہ بہار کی بندرگاہ میں اور پھر یہاں سے آپ عربیہ ٹریڈ کریں ۔ایشیاء میں ٹریڈ کریں افریقہ میں ٹریڈ کریں اسکا مطلب ہندوستان نے 75فیصد لوگوں تک رسائی کا سادہ اور محفوظ راستہ دے دیا ۔

لیکن یہ حقیقت ہے چاہ بہار کی بندر گاہ 11میٹر سے گہری نہیں ہے ۔اور 11میٹر گہری بندر گاہ کے اندر بڑے کنٹینر اور بحری جہاز آکر رک ہی نہیں سکتے لنگر انداز نہیں ہوسکتے ۔ یہاں دوہزار ٹن سے لیکر ڈھائی ہزار ٹن تک بحری جہاز لنگڑانداز ہوسکتے ہیں ۔ اسکے علاوہ چاہ بہار کی بندرگاہ کی برتھوںپر ایک ٹائم میں منفرد قسم کے جہاز وں کے لنگڑ انداز ہونے کی گنجائش نہیں ہے جب وہ آہی نہیں سکتے تو ٹریڈ کا کیا سوال ہے ۔یہ ممکن ہی نہیں کہ یہاں ٹریڈ ہوسکے ۔ تو انڈیا جو ایران کو بندر گاہ بنا کردے رہا ہے ۔

اس کے پیچھے کیا مقاصد ہیںدنیا جانتی ہے کہ انڈیا کی فورس افغانستان میں ہے اور انڈیا اپنی فورس کا حجم( تعداد)کو بڑھانا چاہتا ہے ۔ اور امریکہ انڈیا کو افغانستان میں سیٹ کرنا چاہتا ہے ۔ اسکو وہاں پوزیشن دینا چاہتا ہے ۔اور وہاں فوج کے لئے انڈیا کوراستہ چاہیے ۔جو پاکستان دینے کو تیار نہیں پاکستان کبھی بھی انڈین آرمی کو افغانستان میں اپروچ نہیں دے گا اور نہ کوئی راستہ دے گا نا کوئی لین دے گا ۔تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ انڈیا افغانستان میںاپنی سپلائی کو کس طرح برقرار رکھے گا ۔پاکستان راستہ دینے کوتیار نہیں ۔اور نہ ہی یہ کبھی ممکن ہوسکتا ہے ۔کہ پاکستان راستہ دے کیونکہ انڈیا ہمارا دشمن ہے اور وہ افغانستان میں جائے گا تو ہماری دشمنی کو ا¿گے بڑھائے گا ۔تو انڈیا کے پاس پھر ایک ہی راستہ بچا ہے ۔ کہ وہ اپنی فوج کو چھوٹے بحری جہازوں میں اتارے اور وہ بحری جہاز چاہ بہار کی بندر گاہ پر لے کرجائے اور وہاں سے جس پر ا نڈیا نے 100میلین ڈالر کی لاگت سے 220کلومیٹر کی ایک سڑک بنائی ہے جو افغانستان جاتی ہے یعنی اپنی سپلائی کو ملٹری پریزنٹ کو برقراراور لاجسٹک سپورٹ قائم رکھنے اپنی فوج کے لئے اسلحہ ایمونیشن کے لئے خوراک اپنے پرئیویٹ کی آمدورفت کے لئے وہ یہ راستہ بنایا ہے یہ چاہ بہار کی بندر گاہ کوئی تجارتی مقاصد کے لئے نہیں ہے کہ یہاں سے تجارت ہوسکے یہ ٹریڈ روٹ نہیں ہے یہاں سے ٹریڈ نہیں ہوسکتی ۔

اب جو معاہدہ انڈیا، افغانستان ، اور ایران کے درمیان ہوا ہے اس میں دیکھا جائے تو ایران پہلے سمندر پر تھا۔ ابھی یہ منصوبہ شروع نہیں ہوا مگر افغانستان میں جس پر اس منصوبے کی کامیابی کا دارومدار ہے اسکی سخت مخالفت شروع ہوگئی ہے۔ حزب اسلامی کے رہنماءگلبدین حکمت یار نے اسے افغانستان کے خلاف ایک بڑی سازش قرار دیا ہے انکا یہ بھی کہنا ہے کہ افغان حکومت بھارت کی بجائے پاکستان کے ساتھ معاملات کرے۔ تو اس معاہدے میں یہ افغانستان کو اپروچ دئے رہے ہیں۔

لیکن افغانستان کی کوئی بڑی پروڈکشن نہیں ہے افغانستان گندم بھی پاکستان سے منگواتا ہے تو وہ ملک جس کی کوئی اپنی پروڈکشن ہی نہیں ہے تو وہ کیا ٹریڈ کرکے گا بنیادی طور پر یہ معاہدہ فوجی مقاصد کے لئے ہے اس سے وہ اپنی فوجی پریزنٹ کو افغانستان میںمضبوط کرنا چاہتا ہے ۔

یہ بھی دیکھیں

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام مذہبی امور

وزارتِ مذہبی امور نے کرونا وبا ء کےسلوگن کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔  حکام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے