جمعرات 14 ذوالقعدہ 1442ﻫ - 24 جون 2021

تین بیٹیاں پیدا کرنے پر عورت بہیمانہ تشدد کے بعد قتل

بلوچستان میں شوہر نے تین بیٹیاں پیدا کرنے پر بیوی پر بہیمانہ تشدد کرکے اسے قتل کرڈالا۔
بلوچستان کے علاقے قلعہ عبداللہ میں سردار محمد نامی شخص نے اپنی بیوی کو اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئی۔
لڑکی کے والد محمد رزاق نے پولیس کو ایف آئی آر درج کرواتے ہوئے بتایا کہ18 جون کو مجھے فون پر بتایا گیا کہ میری بیٹی نے خود کشی کرلی ہے، میں اس کے گھر حرمزئی گیا تو مجھے بتایا گیا کہ میری بیٹی نے گلے میں پھندا لگا کر خود کی جان لی۔
محمد رزاق نے پولیس کو بتایا کہ لاش کا معائنہ کرنے کے بعد مجھے یہ خود کشی کا نہیں قتل کا معاملہ لگا، میری بیٹی پر بری طرح تشدد کیا گیا تھا، اس کے جسم پر چوٹوں کے نشان عیاں تھے۔
پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے بھیجا جس کے بعد پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ثابت ہوا کہ مقتولہ کی موت تشدد کے باعث ہوئی۔
سول سنڈیمن ہسپتال میں لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے والی پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض کا کہنا تھا کہ لڑکی کو بے دردی سے مارا گیا، اس کے جسم پر تشدد کے نشانات بہت زیادہ ہیں، اسے لکڑی جیسی سخت چیز سے مارا گیا ہے چہرے پر ناخن کے نشانات بھی ہیں، ان زخموں سے لگتا ہے کہ لڑکی نے موت سے قبل مزاحمت کی ہوگئی مگر مخالف زیادہ طاقتور تھا اس لیے حاوی رہا۔
ڈاکٹر عائشہ کا مزید کہنا تھا کہ مقتولہ کی موت تشدد کی وجہ سے واقع ہوئی، ہمارے پاس جب لاش لائی گئی اس کے جسم کے زخموں کو دیکھ کر لگتاتھا کسی نےوحشیانہ انداز میں اس پر تشدد کیا ہے۔
واقعے کی تحقیقات کرنے والے اسسٹنٹ کمشنر چمن ذکاء اللہ کا کہنا تھا کہ قتل کا مقدمہ مقتولہ کے شوہر کےخلاف درج کرلیا ہے، ہم نے ملزم کے گھر پر چھاپہ بھی مارا لیکن گھر میں کسی کے نہ ہونے کے باعث کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی، ہم نے مقتولہ کی دوسری بہن جو ملزمان کے گھر میں تھی، اسے بازیاب کرواکے ورثا کے حوالے کردیا ہے۔
واقعے سے متعلق مقامی صحافی کا کہنا تھا کہ ہمیں سب سے پہلے اس واقعے کی اطلاع ملی کہ ایک عورت کو اس کے شوہر نے قتل کردیا ہے اور اب اس قتل کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے، مقامی صحافی کے مطابق مقتول کے والد نے مجھے بتایا کہ میری بیٹی کی شادی 8 سال پہلے ہوئی تھی، اس کی تین بیٹیاں ہیں جس میں سب سے چھوٹی ایک ماہ پہلے پیدا ہوئی، مقتولہ کا شوہر اس پر اکثر تشدد کرتا تھا مگر اس نے یہ بات اپنے ماں باپ کو کبھی نہیں بتائی۔
صحافی ثنااللہ کے مطابق لڑکی کے والد کا کہنا تھا کہ آخری بیٹی پیدا ہونے کے بعد اس پر تشدد بڑھ گیا اور اسے بیٹیاں پیدا کرنے کے طعنے ملنے لگے، جب ہمیں اس صورتحال کا علم ہوا تو میں نے ملزم کے بڑے بھائی کو بلا کر اس بارے میں سوال کیا جس پر اس نے کہا آئندہ ایسا نہیں ہوگا، اس تسلی کے بعد بھی میری بیٹی پر تشدد ہوتا رہا اور آج ہمیں اس کی لاش ملی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے