پیر 20 صفر 1443ﻫ - 27 ستمبر 2021

چاند کا تنازع: ’ذوالحج کا مہینہ ایک ماہ بعد شروع ہو گا، اتنی جلدی کیا ہے کریڈٹ لینے کی؟

پاکستان میں ماہ رمضان اور شوال کا چاند دیکھنے پر تقریباً ہر سال ہی اختلافات سامنے آتے ہیں۔
پہلے یہ اختلاف پاکستان کی مرکزی رویت ہلال کمیٹی اور پشاور کی مسجد قاسم علی خان تک محدود تھا تاہم جب سے چوہدری فواد حسین نے وفاقی وزارت برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا قلمدان سنبھالا ہے اس کے بعد سے یہ وزارت بھی اس معاملے میں ایک اہم اور تیسرے فریق کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔
اگرچہ اپنے تئیں وفاقی وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی نے دو سال قبل نئے قمری کیلینڈر کا اجرا اس لیے کیا تھا کہ چاند کی رویت کے حوالے سے علمائے کرام کے مابین چلے آ رہے قدیم اختلافات کو سائنس کی مدد سے حل کیا جا سکے۔ علما حضرات کے درمیان اختلاف ختم ہونا تو درکنار ہاں یہ ضرور ہوا ہے کہ فواد چوہدری اب اس بہانے بھی خبروں میں ضرور رہتے ہیں۔
اور اب یہ معاملہ رمضان اور شوال کے چاند تک محدود نہیں رہا ہے اور رواں برس فواد چوہدری نے اس لسٹ میں ذوالحج کے چاند کو بھی شامل کر لیا ہے۔
رواں ماہ کی 15 تاریخ کو فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اعلان کیا کہ وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے کیلنڈر کے مطابق عیدالاضحیٰ 31 جولائی 2020 بروز جمعہ ہو گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 21 جولائی کو ذوالحج کا چاند کراچی اور اس کے ارد گرد علاقوں میں دوربین سے جبکہ کئی علاقوں میں صرف آنکھ کی مدد سے بھی دیکھا جا سکے گا۔
اس ٹویٹ کو ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ وفاقی وزیر نے ذیقعد کے چاند سے متعلق وزارتِ مذہبی امور کا ایک نوٹیفیکشین شیئر کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ ’وزارت سائنس نےاس سال کی عید الاضحیٰ کی تاریخ 31 جولائی بتائی تھی الحمدللہ آج رویت ہلال کمیٹی نے ایک بار پھر وزارت سائنس کی دی گئی عید الاضحیٰ کی تاریخ کو ہی من وعن تسلیم کیا۔‘
جو نوٹیفیکشین انھوں نے ٹویٹ کیا اس میں فقط اتنا لکھا تھا کہ ’رویتِ ہلال کیمٹی کی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ذیقعد 1441 ہجری ک چاند نظر نہیں آیا لہذا منگل 23 جون کو پہلی ذیقعد ہو گی۔‘ اس نوٹیفیکیشن میں ذوالحج کے چاند یا عیدالاضحیٰ کی کوئی بات سرے سے کی ہی نہیں گئی تھی۔
اس ٹویٹ پر سوشل میڈیا صارفین نے وفاقی وزیر کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ رویت ہلال کمیٹی نے ذیقعد کے چاند کی عدم رویت کا اعلان کیا ہے۔ عیدالاضحی کا تعین تو ذوالحج کے چاند کی رویت سے ہو گا۔
ثاقب بشیر نامی صارف کا کہنا تھا کہ ’وزیر موصوف جلدی میں کچھ غلط کر گئے ہیں۔ ذوالحج کا مہینہ ایک ماہ بعد شروع ہو گا، اتنی جلدی کیا پڑی ہے کریڈٹ لینے کی؟‘
کیا فواد چوہدری کو کریڈیٹ لینے کی جلدی تھی بس؟
اپنی اس ٹویٹ کے حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’میں نے ذیقعد کے حوالے سے ہی نوٹیفکیشن شیئر کیا تھا۔ عید ذوالحج کے 10ویں دن ہوتی ہے۔ اس لیے نوٹیفیکیشن عید کا نہیں بلکہ مہینے کا ہوتا ہے۔ ہمارے کیلینڈر پر جو تاریخیں ہیں وہ رویتِ ہلال کے مہینوں سے میچ کر رہی ہیں۔ اسی لیے میں نے کہا تھا کہ ان کی ساری تاریخیں ہمارے کیلینڈر سے آ رہی ہیں۔‘
اس سوال پر کہ اگر ذیقعد کا مہینہ 30 کا ہو گیا تو کیا عیدالاضحیٰ یکم اگست کو ہو گی؟ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’عید ہر صورت 31 جولائی کو ہی ہو گی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے گذشتہ سال سے کیلینڈر دیا ہوا ہے اور ابھی تک ہماری ساری تاریخیں صحیح ثابت ہوئی ہیں۔ ’حتیٰ کہ رویتِ ہلال والوں نے دو تاریخیں غلط دی تھیں لیکن ہم نے پھر اپنی تاریخیں ثابت کرنے کے لیے تصویریں جاری کیں تھیں اور بتایا تھا کہ یہ غلط ہیں۔‘
فواد چوہدری کا کہنا تھا ’اب جھگڑا عید کے چاند کا نہیں رہا۔۔ اب جھگڑا یہ ہے کہ آپ نے چاند خالی آنکھ سے دیکھنا ہے اور ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کرنا۔۔ اب اس دلیل کے متعلق میں کیا کہوں؟‘
رویتِ ہال کمیٹی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’آپ پورے پاکستان سے جہاز پر بیٹھ کر آتے ہیں، پھر گاڑی چلا کر پہنچتے ہیں، پھر اوپر چڑھ کر آپ دوربین کا استعمال کرتے ہیں۔ عینکیں آپ نے لگائی ہوتی ہیں اور پھر آپ کہتے ہیں کہ چاند کا تعین کرنے کے لیے ٹیکنالوجی استعمال نہیں کی جا سکتی۔‘
یہ جھگڑا آخر کب تک چلے گا؟
اس سوال کے جواب میں وفاقی وزیر کہتے ہیں کہ ’جب تک وفاقی کابینہ وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کا قمری کلینڈر لاگو نہیں کرواتی تب تک تو رویتِ ہلال کی ہی چلے گی۔’
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ کم از کم کابینہ تو اس جاہلانہ دلیل کا ساتھ نہ دے۔ ’ہم ایک سال سے کوششیں کر رہے ہیں لیکن وزارتِ مذہبی امور اور اسلامی نظریاتی کونسل والے فیصلہ نہیں کر رہے۔ فائلیں رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں پورا سال۔ بس عید الفطر پر ان کو ایک ہفتے کے لیے خیال آتا ہے اور پھر بھول جاتے ہیں۔‘
بی بی سی نے اس بارے میں مفتی منیب سے بھی رابطہ کیا لیکن ان کا صرف یہیں کہنا تھا کہ یہ نوٹیفکیشن ذیقعد کے چاند سے متعلق ہے اور عیدالاضحیٰ کا فیصلہ اگلے مہینے کا چاند دیکھ کر کیا جائے گا۔
تاہم اس سوال کے جواب میں کہ آیا انھوں نے ذیقعد کا نوٹیفکیشن وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے کلینڈر کی روشنی میں تیار کیا ہے اور کیا دونوں وزارتوں کے درمیان بلآخر چاند کی تاریخوں پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے، انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور یہ کہتے ہوئے فون بند کر دیا کہ وہ ابھی مصروف ہیں۔
سوشل میڈیا پر ردِعمل
اب کس نے کِس کی تاریخیں کاپی کیں اور دونوں وزارتوں کے درمیان چاند کی تاریخوں پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے یا نہیں؟ یہ تو ہمیں معلوم نہیں ہو سکا تاہم سوشل میڈیا صارفین کے خیال میں فواد چوہدری نے ذیقعد کا نوٹیفیکیشن ذی الحج کا سمجھ کر شیئر کر دیا ہے اور یہیں سے انھیں تفریح و تنقید کا ایک موقع مل گیا۔
محمد اویس قادری طنزیہ انداز میں وفاقی وزیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں ’ہمیں تو آج معلوم ہوا کہ 40 دن پہلے ذوالقعدہ کا چاند دیکھ کر عید الاضحٰی کا فیصلہ ہو جاتا ہے، آج تک ہم یہ سمجھتے تھے کہ ذوالحجّہ کا چاند دیکھنا ضروری ہے۔ شکریہ وزیرِ سائنس۔‘
مہتاب خان نامی صارف کہتے ہیں نئے پاکستان میں عید لاضحی کا تعین ذو لحج کا چاند دیکھنے سے نہیں ہو گا بلکہ ذیقعد کا چاند نظر نہ آنے کے اعلان سے ہی عید الاضحی کی تاریخ کی تصدیق ہو جایا کرے گی۔
عالیہ نامی صارف بھی فواد چوہدری سے اتفاق کرتی نظر آئیں۔ ان کا کہنا تھا ’وزارت مذہبی امور نے اس خوف سے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا کہ کہیں وزارت سائنس پھر اعلان نہ کر دے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’باقی سب کچھ چاند سورج گرہن، وغیرہ سائنسی معلومات پر مبنی۔ عینک، دوربین، ٹی وی، موبائل فون سب کچھ سائنسی استعمال کرنا ہے۔ اور عید پر چاند دیکھنے کا ڈرامہ۔‘
علی حمزہ جیلانی کہتے ہیں ’جو دل ہے ہو جائے۔ لیکن ہمارے نزدیک علمائے حق کی بات زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ علما نبیوں کے وارث ہیں۔‘
حمزہ خان بھی علی حمزہ جیلانی کی بات سے اتفاق کرتے نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا ’فواد چوہدری صاحب ہم شریعت کے پابند لوگ، جب ہمارے نبی اکرم حضرت محمد مصطفٰی نے فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید کرو ٹھیک ہے عرب ممالک نے پچھلے کئی سالوں میں لوگوں کی غلط عیدیں کروائی ہے۔ قمری کیلنڈر تو عرب ممالک نے بھی بنایا ہے مگر رویت لازمی ہے۔‘
اسامہ ظفر کہتے ہیں ‘عید تو ذوالحج میں ہوتی تھی، لگتا ہے تبدیلی آئی ہے۔‘

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے