منگل 6 شوال 1442ﻫ - 18 مئی 2021

پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کراچی طیارہ حادثہ کے ذمہ دار قرار: عبوری رپورٹ

پی آئی اے طیارہ حادثے کی عبوری رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئی۔ غلام سرور نے کہا حادثے کی ذمے داری کریو کیبن اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کی بھی بنتی ہے، ذمہ دار احتساب سے بچ نہیں پائیں گے۔
وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا طیارے کے پائلٹس طبی طور پر جہاز اڑانے کیلئے فٹ تھے، پائلٹس نے دوران پرواز کسی قسم کی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی، ابتدائی رپورٹ کے مطابق طیارہ پرواز کیلئے 100 فیصد فٹ تھا، جہاز لینڈنگ کے وقت 7220 فٹ کی بلندی پر تھا، کنٹرولر نے 3 بار پائلٹ کی توجہ اونچائی کی جانب دلوائی، یہ ریکارڈ پر ہے کہ جہاز کے لینڈنگ گیئر کھولے گئے۔

غلام سرور کا کہنا تھا 10 ناٹیکل مائل پر جہاز کے لینڈنگ گیئر کھولے گئے، 5 ناٹیکل مائل پر لینڈنگ گیئر دوبارہ بند کیے گئے، جہاز رن وے پر رگڑے کھاتا رہا، انجن کافی حد تک متاثر ہوا، پائلٹ نے جہاز کو دوبارہ اڑایا، کوئی ہدایت نہیں لی، پائلٹس نے ایئر ٹریفک کنٹرول کی ہدایات کو نظرانداز کیا، عبوری تحقیقات رپورٹ میں کنٹرول ٹاور اور پائلٹ کی کوتاہی سامنے آئی، اے ٹی سی نے جہاز کے رگڑ کھانے کے بعد بھی ہدایات نہیں دیں

وفاقی وزیر نے مزید کہا بدقسمتی سے پائلٹ طیارہ کو آٹو لینڈنگ سے نکال کر مینوئل لینڈنگ پر لایا، وائس ریکارڈر سے پتہ چلا پائلٹس آخر تک کورونا کی گفتگو کرتے رہے، پائلٹ اور کوپائلٹ کے فوکس نہ ہونے پر سانحہ پیش آیا، چترال طیارے کا واقعہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے پیش آیا، پائلٹس کی جعلی ڈگریاں بھی ایک بدقسمتی ہے، ماضی میں پائلٹس کی جعلی ڈگریوں پر تعیناتیاں سامنے آئیں، پاکستان میں ٹوٹل 860 ایکٹو پائلٹس ہیں۔

غلام سرور خان کا کہنا تھا تحقیقات پر پتہ چلا متعدد پائلٹس کی جگہ کسی اور نے امتحان دیا، 860 میں سے 262 پائلٹس نے خود امتحان نہیں دیا، نچلے درجے کا اسٹاف، پائلٹ، ایڈمن تمام سٹاف شامل ہے، جعلی لائنس والے پائلٹس کیخلاف ایکشن شروع ہوگیا، پی آئی اے کی نجکاری نہیں کریں گے۔

وزیر ہوا بازی نے کہا کراچی طیارہ حادثے کے دن ہی انکوائری کمیشن تشکیل دیا گیا، انکوائری بورڈ نے احساس ذمہ داری ادا کرتے ہوئے فرائض منصبی ادا کیے، انکوائری بورڈ نے جہاز کے تمام ملبے کا معائنہ کیا، فرائنسی ٹیم 26 مئی کو پاکستان آئی، انکوائری بورڈ میں پائلٹس کی نمائندگی نہیں تھی، ہم نے انکوائری بورڈ کو وسیع کیا اور ایئر بلیو کے 2 سینئیر پائلٹس کو بورڈ کا حصہ بنایا۔

غلام سرور خان کا کہنا تھا یہاں پر 6، 6 سال طیارہ حادثوں کی رپورٹس پیش نہیں کی جاتیں، انشاللہ جس طرح عبوری رپورٹ پیش کر رہے ہیں مکمل رپورٹ بھی ایوان میں پیش کریں گے، کراچی طیارہ حادثے پر انکوائری شفاف طریقے سے جاری ہے۔

عبوری رپورٹ جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رن وے سے 10 میل کے فاصلے پر طیارے کو تقریباً 2 ہزار 500 فٹ کی بلندی پر ہونا چاہیے تھا جبکہ ابتدائی تحقیقات اور ریکارڈ کے مطابق جہاز اس وقت 7 ہزار 220 فٹ کی بلندی پر تھا یہ پہلی بے قاعدگی تھی۔

انہوں نے کہا کہ وائس ریکارڈڈ ہے کہ ایئر ٹریفک کنٹرولر (اے ٹی سی) نے 3 مرتبہ پائلٹ کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ اس کی اونچائی ابھی بھی زیادہ ہے اور پائلٹ سے کہا گیا کہ لینڈنگ پوزیشن نہ لیں بلکہ ایک چکر اور لگا کر آئیں لیکن پائلٹ نے کنٹرولر کی ہدایات کو نظرانداز کیا۔

غلام سرور خان نے کہا کہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اور یہ ڈیٹا اینٹری ریکارڈر میں بھی موجود ہے کہ رن وے سے 10 ناٹیکل مائلز کے فاصلے پر طیارے کے لینڈنگ گیئرز کھولے گئے لیکن ایک بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب جہاز 5 ناٹیکل مائلز پر پہنچا تو لینڈنگ گیئرز واپس اوپر کرلیے گئے۔

‘طیارے کا انجن 3 مرتبہ رن وے سے ٹکرایا’
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاز کو رن وے پر لچکدار پوزیشن دی جاتی ہے کہ 1500 سے 3000 فٹ پر لینڈ کرسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ رن وے کی لمبائی 1100 فٹ ہوتی ہے اور اصولاً طیارے کو 1500 سے 3000 فٹ پر ٹچ ڈاؤن کرنا چاہیے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ لینڈنگ گیئرز کے بغیر حادثے کا شکار طیارے نے 4500 فٹ پر انجن پر 3 مرتبہ ٹچ ڈاؤن کیا اور 3 ہزار سے 4 ہزار فٹ تک رن وے پر رگڑ کھاتا رہا جس میں انجن کو کافی حد تک نقصان پہنچا، اسی دوران پائلٹ نے دوبارہ جہاز کو اڑالیا جبکہ انہیں کوئی ہدایات نہیں دی گئی تھیں نہ پائلٹ نے کوئی ہدایات لی تھیں جس میں دونوں جانب سے کوتاہی تھی۔

غلام سرور خان نے کہا کہ اس میں اے ٹی سی کی بھی کوتاہی ہے کہ جب انہوں نے طیارے کو انجن پر ٹچ ڈاؤن کرتے دیکھا اور آگ نکلتے دیکھی تو انہیں بھی آگاہ کرنا چاہیے تھا لیکن کنٹرول ٹاور نے پائلٹ کو بھی آگاہ نہیں کیا اور پائلٹ نے جہاز کو دوبارہ ٹیک آف کرلیا۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاز نے جب دوبارہ ٹیک آف کیا تو دونوں انجنز کو نقصان پہنچ چکا تھا پھر پائلٹ نے دوبارہ لینڈنگ کے لیے رسائی کی اجازت چاہی لیکن بدقسمتی سے جو اپروچ اور اونچائی انہیں بتائی گئی وہ اس تک نہیں پہنچ سکے اور وہ جہاز بدقسمتی سے شہری آبادی پر گرگیا۔

انہوں نے کہا کہ طیارہ حادثے میں جن لوگوں کی بھی ہلاکتیں ہوئیں وہ جہاز گرنے اور اس میں آگ لگنے کے باعث ہوئیں.

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے لگا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے